مغلوں کی گھریلو زندگی کا ذکر آتے ہی ایک ایسے حرم کی تصویر آنکھوں کے سامنے گھومنے لگتی ہے جس میں عورتوں کا ایک جم غفیر موجود ہے اور یہ ساری عورتیں ایک شخص یعنی بادشاہ کو خوش کرنے میں لگی ہوئی ہیں۔ حرم کی اصطلاح ہی ایک ایسے وسیع و عریض عمل کے لیے استعمال کی جاتی ہے جس میں بادشاہ عورتوں کے عیش و انبساط کے پل گزارتا ہے حالانکہ یہ لفظ مسلمانوں میں نہایت متبرک عبادت گاہ کے لیے محفوظ ہے لیکن نہ جانے کس طرح تاریخ میں بادشاہوں نے اس لفظ کے معنی بالکل بدل کر رکھ دیئے۔ مغل بادشاہوں کے محل میں بیویوں‘کنیزوں اور دیگر خادماؤں کی پوری ایک فوج نظر آتی تھی۔ اس میں وہ بیویاں بھی ہوتی تھیں جو نکاح میں ہوتیں اور وہ بھی مطلقہ ہوتیں۔ کنیزوں کی تعداد کا تو کوئی شمار ہی نہیں ہوتا تھا۔ ابتدائی مغل بادشاہوں ‘بابر اور ہمایوں کے محل نسبتاً چھوٹے تھے اور اس میں عیش و عشرت کا وہ سماں نظر نہیں آتا تھا جو اکبر کے زمانے کی پہچان تھا۔ اکبر کی حرم سرا میں قریباً 300بیویاں موجود تھیں جومتعہ کر کے شاہی محل میں لائی گئی تھیں اور ابوالفضل کے مطابق کنیزوں کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ جہانگیر کی محل سرا میں 300بیویوں کا ذکر ملتا ہے۔ البتہ اورنگ زیب کی زندگی میں آنے والی عورتوں کی تعداد بہت مختصر ہے اور دو تین کے علاوہ کسی اور بیوی کا ذکر تاریخ میں نہیں ملتا۔
جہاں تک مشترکہ خاندانی نظام کا تعلق ہے تو مغلوں کے یہاں بچے بلوغت تک پہنچنے سے پہلے اپنے والدین کے ساتھ ہی محل میں رہتے تھے۔ البتہ شادی کے بعد ان کا رہن سہن الگ ہوجاتا تھا۔ اسی طرح مغلوں میں عام طور پر مرد کثرت ازواج کے قائل تھے اور ایک سے زیادہ بیویاں ان کی شان کی علامت سمجھی جاتی تھیں حالانکہ حرم میں بادشاہ واحد مرد ہوتا تھا جس کا داخلہ معمولات میں تھا لیکن بادشاہ کے علاوہ شاہی حرم میں بادشاہ کی ماں کو کسی بھی وقت آنے جانے کی پوری اجازت ہوتی تھی اور پورے احترام اور وقار کے ساتھ ماں کا استقبال کیا جاتا تھا۔ ماں کی قدم بوسی کرنا ‘ان کو بٹھا کر ان کے سامنے کھڑے رہنا اور انکی ہر خواہش کا احترام کرنا اور ان کے ہر حکم کو بجا لاناچنگیزی روایت کا ایک نہایت اہم حصہ تھا اور تما م مغل بادشاہ ان تما م قدروں کی بے پناہ پاسداری کرتے تھے ۔



















































