جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

کیا آپ جانتے ہیں آفس کی ایک شفٹ کی ٹائمنگ 8گھنٹے کیوں ہوتی ہے ؟ پہلی بار ایسی تفصیلات منظر عام پر آگئیں جو یقیناً آپ کو اس سےپہلے معلوم نہ تھیں

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)کیا آپ جانتے ہیں دفاتر میں آفس ٹائمنگ 8گھنٹے کیوں رکھی جاتی ہے ؟ ایسی تفصیلات سامنے آگئیں جو یقیناً آپ کو پہلے معلوم نہ تھیں ۔ تفصیلات کے مطابق دنیا کے ہر دفتر میں ایک شفٹ کا ٹائم آٹھ گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے اور یہ اصول تمام دفاتر میں لاگو کیا جاتا ہے کہ آفس ٹائم 8گھنٹے ہو گا ، جبکہ دنیا کے تمام انسان اسی اصول پر کام کرتے چلے آرہے ہیں ۔ اس مقصد کے لئے ”آٹھ گھنٹے کا دن“ کے

نام سے ایک تحریک چلائی گئی جسے ’40 گھنٹے کا ہفتہ‘یا’مختصر مدت تحریک‘ بھی کہا جاتا ہے۔یہ سماجی تحریک تھی جس کے تحت کام کے اوقات کو کسی ضابطہ اصول کے میں لانا تھا جس کا مقصد ملازمین کی حق تلفی اور استحصال کو روکنا تھا ۔ وکی پیڈیا کے مطا بق اس تحریک کو جیمز ڈیب نے شروع کیا جس کے جڑیں برطانیہ کے صنعتی انقلاب میں تھیں، جس نے صنعتی پیدوار نے ملازمین کی زندگی کو یکسر بدل کر رکھ دیا تھا ۔ اس دور کے برطانیہ میں بچوں سے مشقت لینا معمول کی بات تھی۔ مزدوروں کے کام کے اوقات روزانہ 10 سے 16 گھنٹوں پر مشتمل ہوتے تھے اور انہیں ہفتے میں بمشکل ایک چھٹی مل پاتی تھی۔1810ءمیں رابرٹ اوون نے 10 گھنٹے یومیہ کی تاریخ شروع کی تھی جو سات سال کی تحریک کے بعد یہ مطالبہ 8 گھنٹے یومیہ تک پہنچ چکا تھا جس کا نعرہ تھا ”آٹھ گھنٹے کام، آٹھ گھنٹے تفریح اور آٹھ گھنٹے آرام۔“ پر مشتمل تھا ۔ اس تاریک کے تحت سب سے پہلے انگلینڈ میں خواتین اور بچوں کو 10 گھنٹے یومیہ کا حق 1847ءدیا گیا تھاجبکہ اس کے بعد فرانس کے مزدوروں کی زندگی میں تبدیلی اس وقت آئی جب ان کے کام کا دورانیہ 12 گھنٹے یومیہ مقرر کیا گیا۔متعدد ممالک میں مزدوروں کے اوقات کار طے کرنے کے لئے تحریک چلائی گئی جس کے بعد تاریخی اہمیت کا یہ قانون 17 نومبر 1915ءکے روز نافذ العمل ہوا، جس کے اثرات پوری دنیا تک پھیل گئے اور 8 گھنٹے کی شفٹ ہر جگہ لاگو کر دیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…