جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو چیف جسٹس کی استعفیٰ دینے کی ہدایت ، خاتون نے انکار کیا تو چیف جسٹس ثاقب نثار نے کیا سزا سنا دی؟ تاریخ رقم کردی

datetime 22  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میرٹ کے برعکس وی سی تعیناتی ازخود نوٹس کیس کی سماعت ، لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی کا چیف جسٹس کے حکم کے مطابق مستعفی ہونے سے انکار، چیف جسٹس نے عظمیٰ قریشی کو معطل کرتے ہوئے تعیناتی کی انکوائری کا حکم دیدیا۔ تفصیلات کے مطابق آج سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان

جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے میرٹ کے برعکس وی سی تعیناتی ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی اس موقع پر عدالت میں پیش ہوئیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی میں میرٹ کے برعکس وی سی کی تعیناتی کامعاملہ سینئرزکوکیسے نظراندازکیاگیا؟۔ہمیں علم ہے کہ احسن اقبال کاتعیناتی میں کیاکردار ہے۔وی سی لاہور کالج یونیورسٹی عظمیٰ قریشی نے کہا کہ احسن اقبال میرے والد کے شاگردہیں،حلفاً کہتی ہوں احسن اقبال کاتعیناتی میں کردارنہیں۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ نظام تعلیم کابیڑاغرق کردیا،یہ ہے پنجاب حکومت کی کارکردگی؟۔وزیر ہائیرایجوکیشن نے کہا کہ عظمیٰ قریشی کی تعیناتی میرے دورمیں نہیں ہوئی،ایڈووکیٹ جنرل نے بتایاکہ رزاق داو¿د، عمرسیف،ظفراقبال قریشی پرمشتمل سرچ کمیٹی تشکیل دیدی گئی۔وی سی لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی عظمیٰ قریشی نے مستعفی ہونے سے انکارکردیا،اس پر چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ میرٹ کےخلاف وزراکے کہنے پر تعیناتیاں برادشت نہیں،چیف جسٹس نے وی سی لاہورکالج فارویمن یونیورسٹی کومعطل کردیا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ سرچ کمیٹی شفاف طریقے سے وائس چانسلر کی تعیناتی کرے اورعظمیٰ قریشی کی تعیناتی کی انکوائری کاحکم دے دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…