جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ریلوے کی تمام برانچ لائنیں نقصان پرچلتی ہیں،سعد رفیق کی بڑی قلابازی،حیرت انگیز انکشافات،بڑا مطالبہ کردیا

datetime 20  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہاہے کہ ہمیں بحیثیت جماعت چور قرار دیدیا گیا ہے، ہمارے خلاف جانچ پڑتال کریں مگر شکایت کنندہ کا نام اور پتا بتادیں، ریلوے کی تمام برانچ لائنیں نقصان پرچلتی ہیں، اگر نقصان والے سیکشن بند کردیں تو ریلوے کا آدھا خسارہ کم ہو جائے گا، سب سٹیک ہولڈرز الیکشن کروانا چاہتے ہیں، اداروں یا سیاسی جماعتوں میں موجود لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے،

ہم ایک دوسرے کے دشمن نہیں، ہماری سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس لڑائی میں کوئی نہیں جیت سکتا۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سعد رفیق نے کہا کہ خسارہ اور کرپشن دو الگ چیزیں ہیں، ریلوے کی تمام برانچ لائنیں نقصان پرچلتی ہیں، اگر نقصان والے سیکشن بند کردیں تو ریلوے کا آدھا خسارہ کم ہو جائے گا۔انہوں نے کہاکہ ادارے کو نجکاری سے بچایا جائے، ہم ڈیڑھ سو سال پرانا ریلوے سسٹم لیکر چل رہے ہیں، ریلوے کو بہت بہتر کرنے کیلئے 20 سے 25 ارب ڈالرز درکار ہیں، ریلویزکیلئے بیرونی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہرسال حکومت پنشن بڑھاتی ہے جس کا بوجھ ادارے پر پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنیوالی حکومتیں ریلوے میں آمدنی بڑھانے کی کوشش کریں۔سعد رفیق نے کہا کہ کیا پاکستان میں سارے سول سرونٹس اور سیاستدان چورہیں؟ ۔اب تو میں جیل ہی جاؤں گا، ہمیں بحیثیت جماعت چور قرار دے دیا گیا ہے، ہمارے خلاف جانچ پڑتال کریں مگر شکایت کنندہ کا نام اور پتا بتادیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سٹیک ہولڈرز الیکشن کروانا چاہتے ہیں، اداروں یا سیاسی جماعتوں میں موجود لوگوں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے دشمن نہیں، ہماری سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، اس لڑائی میں کوئی نہیں جیت سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس لڑائی میں نہیں جیتیں گے، وہ بھی شکست خوردہ ہوں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…