علم دست شناسی قدیم تہذیب کے چند بڑے بڑے علوم میں سے ایک گر دانا جانا جاتا ہے۔ ہندوستان‘ چین ‘ ایران‘ مصر اور روم یہ تمام ممالک اس علم کے گہوارے مانے جاتے ہیں۔عیسا ئیت کے شروع شروع کے علمبرداروں اور پیشوا ؤ ں نے اس علم کی بڑی مخالفت کی لہٰذا انہوں نے اس علم کے پڑھے جانے پر بڑی بڑی پابندیاں عائد کروا دیں۔ اس علم کے استادوں کو طرح طرح کی تکلیفیں دی گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اسے یورپ میں خلاف قانون ٹھہرایا گیا ۔اس رد عمل کا نتیجہ یہ ہوا کہ علم مصر یوں اور خانہ بدوشوں کے ہاتھ لگ گیا لیکن یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ ان مخالفتوں کے باوجود پا مسٹری کی پہلی کتاب1475ء میں شائع ہوئی تھی۔
ہر ہاتھ کی ساخت اور بناوٹ مختلف ہو تی ہے‘ اس کے مطالعہ سے انسان کے کردار کو پر کھا جاسکتا ہے‘ ہاتھ کی ساخت کو دیکھ کر پتا لگایا جا سکتا ہے کہ زیرِ مطالعہ ہاتھ کا مالک کس نسل اور کن خاص صلاحیتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ ہاتھ کی بے شمار اقسام ہیں جن کو پہچاننے میں زیادہ دقت کا سامنا نہیں کر نا پڑتا۔
ابتدائی ہاتھ: جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے‘ ابتدائی ہاتھ ہاتھوں کی سب سے ادنیٰ قسم ہے۔ یہ حیوانی ہاتھ سے ذرا ہی اچھا ہو تا ہے ۔ ہاتھ کی یہ قسم بہت چھو ٹی ہو تی ہے‘ یہ ہا تھ کا فی حد تک چھو ٹا ‘ بھدا اور حیوانی ہاتھ سے ملتا جلتا ہے‘ ہاتھ جتنا بھی چھوٹا اور مو ٹا ہو گا اتنی ہی اس شخض میں حیوانی خصلتیں زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا ایسا شخص بڑاکم حساس‘ اکھڑ ا اور حیوانی خصلتوں کا مالک ہو تا ہے۔ جن لو گو ں کے ہاتھ اس قسم کے ہو ں وہ ذہنی طور پر زیادہ ترقی یافتہ نہیں ہو تے ‘ ان میں قابلیت کا عنصر کم ہی ہو تا ہے ۔ ایسے لو گ معمولی معمولی قسم کے کاموں میں زندگی کے دن گزار دیتے ہیں۔ یہ لوگ بڑے تیز مزاج ہو تے ہیں اور انھیں اپنی طبیعت یا غصے پر قابو نہیں ہو تا‘ ان لو گوں کے نہ تو خیالات بلند ہوتے ہیں اور نہ ہی یہ طبیعت کے حساس ہوتے ہیں۔ انھیں دکھ کا احساس نہیں ہو تا‘ سوائے کھانے پینے اور سونے کے



















































