جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

اسلام آبادمیں مردم شماری کی آڑ میں لاکھوں روپے بٹورنے والے منظم گروہ کا انکشاف ،طریقہ واردات بھی سامنے آگیا

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی دارالحکومت میں حساس اداروں کے نام پر مردم شماری کی آڑ میں لاکھوں روپے بٹورنے والے منظم گروہ کا انکشاف ہوا ہے،مذکورہ بالا بااثر نوسربازوں کو مبینہ طور پر عسکری بینک الائیڈ بنک اور ایچ بی ایل کے افسران کی پشت پناہی حاصل ہونے کی وجہ سے ایف آئی اے حکام نے بھی چپ سادھ لی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں مردم شماری کے نام پر شہریوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے لاکھوں روپے بٹورنے والے

بااثر گینگ کے ملزمان کو پولیس تاحال گرفتار نہیں کرسکی۔آن لائن کو حاصل ہونے والی دستاویزات کے مطابق اسلام آباد میں تین مختلف واقعات میں شہریوں سے لاکھوں روپے ہتھیا لئے گئے،ان واقعات میں بلیوایریا کے اصغر شیخ نامی سے28 لاکھ جبکہ عبدالستار سے چار لاکھ اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے ملازم سے2لاکھ روپے ہتھیانے کے واقعات رپورٹ ہونے کے باوجود قانون نافذ کرنے والے اداروں پر جوں تک نہیں رینگی،اس حوالے سے متاثرہ شہریوں نے ایف آئی اے حکام سے رجوع کیا لیکن ایف آئی اے حکام نے مقدمات درج کرنے کی بجائے بنک کی مدعیت میں درج مقدمے میں فریق بننے کا بول کر ٹال مٹول سے کام لینا شروع کردیا۔ذرائع نے آن لائن کو بتایا کہ مذکورہ بالا دارالحکومت میں سرگرم نوسربازوں کے گروہ کو ایف آئی اے اور وفاقی پولیس کے چند افسران کی بھی پشت پناہی حاصل ہے ،اس لئے لاکھوں روپے بٹورنے کے باوجود ملزمان کا سرعام نوسربازی کا سلسلہ جاری ہے،طریقہ واردات کے مطابق پہلے موبائل نمبر پھر بنک بنک کے نمبر سے کال موصول ہوتی ہے اور کال کرنے والا اپنا تعارف آرمی سے کرواتا ہے اور کوائف کی مد میں معلومات اکٹھی کرتا ہے۔بعد ازاں ذاتی معلومات سے بنک اکاؤنٹ سے لاکھوں روپے نکال لئے جاتے ہیں۔ابتدائی تحقیقات میں اس دھندے میں مبینہ طور پر الائینڈ بنک،عسکری بند اور ایچ بی ایل کے چند ملازمین کی نوسربازوں کی پشت پناہی کا انکشاف ہوا ہے،اس حوالے سے ایف آئی اے حکام کی معنی خیز خاموشی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…