جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

ایمنسٹی اسکیم حکومت کے گلے پڑ گئی ،کتنے ارب کا نقصان اٹھانا پڑیگا؟فائدے کے تمام دعوے ٹھس

datetime 8  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم کے تحت تنخواہ دار اور غیر تنخواہ دار افراد کی آمدنی پر انکم ٹیکس ریٹ میں 15 سے 35 فیصد کمی کے بعد قومی خزانہ کو مجموعی طور پر 90 ارب روپے کا نقصان پہنچے گا۔ایمنسٹی اسکیم کے تحت کل 5 لاکھ 21 ہزار شہری انکم ٹیکس سے مستثنی ہو گئے ہیں تاہم مذکورہ اقدام کو امیر طبقے کے لیے سود مند قرار دیا جارہاہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق دنیا بھر میں

زائد کمانے والوں پر زیادہ ٹیکس عائد ہوتا ہے لیکن مذکورہ فیصلے کے بعد 12 سے 24 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں پر صرف 5 فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ایمنسٹی اسکیم کا فیصلہ ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب 31 مئی 2018 کو آئینی حکومت اپنی مدت پوری کرلے گی جس کو ماہرین اقتصادیات الیکشن سے قبل دھاندلی تصور کررہے ہیں۔سینئر ٹیکس حکام نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر)کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت کی جانب سے ایمنسٹی اسکیم کی وجہ سے ٹیکس نیٹ مزید کمزورہو جائے گا اور موجودہ ٹیکس ادا کرنے والے بتدریج منظر عام سے غائب ہو جائیں گے۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ انکم ٹیکس میں وید ہولڈنگ ٹیکس کی شرح مالی سال 17-2016 میں 68 فیصد تھا، جس میں 13 فیصد کمی ہوجائے گی۔ذرائع نے بتایا کہ ڈائریکٹ ٹیکس کی شرح گزشتہ چند برس سے 38 فیصد ہے مذکورہ فیصلے کے نتیجے میں مجموعی طور پر تنزلی آئے گی۔حکام کے مطابق انکم ٹیکس میں 15 فیصد کمی سے ریونیو کو شدید دھچکا لگے گا جبکہ اس کے برعکس امیر ترین لوگ مذکورہ اسکیم سے اربوں روپے بچا سکیں گے۔واضح رہے کہ پاکستان میں 0.4 فیصد، بھارت میں 4.7 فیصد، فرانس میں 58 فیصد اور کینیڈا میں 80 فیصد لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ حکومت نے ٹیکس افسران کی تنخواہوں میں غیر معمولی اضافہ کیا تا کہ ٹیکس نیٹ کو بڑھایا جا سکے تاہم ایمنسٹی اسکیم کے بعد سارے اقدامات اپنے مقاصد حاصل نہیں کر سکیں گے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…