جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانیوں نے یو اے ای کے شاہی خاندان کو بھی نہ بخشا، ایسا چونا لگا دیا کہ شاہی خاندان کی اہم شخصیت نے فوری طور پرچیف جسٹس اور آرمی چیف سے مدد طلب کر لی، شاہی خاندان کو چونا لگانے والا پاکستانی کون نکلا؟

datetime 7  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)مالیاتی اداروں اور کاروبار میں آئے روز فراڈ کی خبریں میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں مگر اب ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے کہ جس نے پاکستان بھر کو چونکا کے رکھ دیا ہے۔ ایک پاکستانی واچ کمپنی کے مالک نے متحدہ عرب امارات کے شاہی خاندان کو چونا لگا دیا ہے اور بات صرف یہیں تک رہی بلکہ فراڈ کا شکار ہونے والے شاہی خاندان کے

معروف تاجر سہیل الزیرونی نے پاکستا ن کے صدر مملکت، وزیراعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف سے مدد کی اپیل کر دی ہے۔ سہیل الزیرونی نے کہا کہ پاکستانی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ فراڈ کر کے آنے والے تاجروں کے خلاف سخت کارروائی کریں. انہوں نے بتایا کہ واچ کمپنی کے مالک کے خلاف کراچی میں ایف آئی آر درج کروائی گئی لیکن ایک انتہائی اہم سیاسی شخصیت نے اس ایف آئی آر کو نہ صرف تبدیل کروایا بلکہ شاہی خاندان کے کئی افراد کو دھمکایا بھی اور کہا کہ ہم آپ کو کراچی میں نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ سہیل الزیرونی کے اس خط کے بعد پاکستان کے اہم ادارے متحرک ہو گئے ہیں اور واچ کمپنی کے مالک شکیل احمد سمیت 211افراد کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں، فہرست میں کراچی کی تین شخصیات، خیبرپختونخواہ کی 11شخصیات اور پنجاب کے 21تاجر شامل ہیں ۔ ذرائع کے مطابق شاہی خاندان کے فرد کے خط کے بعد تیار کی گئی فراڈیوں کی فہرست کے بعد جلدان افراد کی گرفتاری بھی متوقع ہیں۔واضح رہے کہ پاکستانیوں کی بڑی تعداد یو اے ای میں کاروبار اور نوکریاں کر رہی ہے جبکہ دبئی میں پاکستانیوں نے رئیل اسٹیٹ میں بہت زیادہ انویسٹمنٹ کر رکھی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ متحدہ عرب امارات سے ایسا خط وہ بھی کسی شاہی شخصیت کی جانب سے پاکستان کی ذمہ دار اہم شخصیات کو بھیجا گیا ہے۔ سہیل الزیرونی کے خط کے بعد ان فراڈیوں کے خلاف اہم ادارے متحرک ہو چکے ہیں اور خبر ہے کہ ایک فہرست بھی تیار کر لی گئی ہے جس میں شامل ناموں کے خلاف جلد بڑا کریک ڈائون کیا جائے گا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…