جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

بچوں کے تحفظ کیلئے بنائی گئیں موبائل ایپس زیادہ مؤثر نہیں، تحقیق

datetime 5  اپریل‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

فلوریڈا(مانیٹرنگ ڈیسک) انٹرنیٹ ٹیکنالوجی اتنی عام ہوچکی ہے کہ کم عمر بچے بھی اسمارٹ فون، ٹیبلٹ اور دیگر آلات کے ذریعے اس کا استعمال کر رہے ہیں والدین جس طرح حقیقی دنیا میں بچوں کی حفاظت کے لیے فکرمند رہتے ہیں اسی طرح انٹرنیٹ کے جہان میں بھی اپنے جگر گوشوں کے تحفظ کا خیال انہیں پریشان کیے رہتا ہے۔ اولاد کے لیے والدین کی اسی فکرمندی کے پیش نظر متعدد موبائل ایپس بنا لی گئیں۔

جن کا مقصد انٹرنیٹ کی دنیا میں مجرمانہ اور منفی ذہن کے حامل لوگوں سے بچوں کے تحفظ میں والدین کی مدد کرنا ہے۔ یہ ایپس بچوں کی حفاظت کے نقطۂ نظر سے ڈیزائن کی جاتی ہیں مگر حال ہی میں کی گئی دو تحقیق میں کہا گیا ہے کہ بجائے فائدے کے یہ ایپس نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں اور ان کی وجہ سے بچے اور والدین کے درمیان اعتماد کا رشتہ کمزور پڑجاتا ہے اور آن لائن خطرات پر ردعمل ظاہر کرنے کی بچوں کی صلاحیت بھی متاثر ہوتی ہے۔ دونوں تحقیق امریکا کی سینٹرل فلوریڈا یونیورسٹی سے وابستہ محققین نے کی ہیں اور دوران تحقیق سائنس دانوں نے 215 والدین اور ان کے بچوں کا جائزہ لیا جو اسمارٹ فون پر پیرنٹل کنٹرول ایپس استعمال کرتے ہیں۔ سائنس دانوں نے یہ بھی دیکھا کہ کیا حقیقتاً یہ ایپس بچوں کے آن لائن تحفظ میں معاون ثابت ہوئیں اور یہ ایپس استعمال کرنے والے بچے اپنے والدین کے بارے میں کیا سوچتے ہیں۔ محققین کے مطابق حاکمانہ مزاج رکھنے والے والدین جو اپنے بچوں کو آزادی دینے کے حق میں نہیں تھے وہ سب سے زیادہ پیرنٹل کنٹرول ایپس استعمال کرتے ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ہی کے بچوں کو آن لائن خطرات جیسے غیراخلاقی مواد کا سامنے آ جانا، ہراساں کیے جانا اور جنسی ترغیب وغیرہ کا دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ سامنا رہتا ہے۔ ماہرین نے تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پیرنٹل کنٹرول ایپس بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کو تو کنٹرول کرتی ہیں مگر انٹرنیٹ کی دنیا میں ان کے تحفظ میں کچھ زیادہ مؤثر نہیں ہوتیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…