جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

چوہدری نثار اور مسلم لیگ (ن) میں مقابلہ سخت ہے ، چوہدری نثار کی کوشش ہے کہ ن لیگ کی قیادت کون سا کام کرے؟؟ خورشید شاہ نے اندر کی بات بتادی

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی) قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ نے کہا ہے کہ نگران سیٹ اپ کیلئے نواز شریف سے نہیں بلکہ وزیر اعظم سے بات ہو گی ، اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اوروہ اپنی جماعتوں میں بات کر کے نام دینگے ،چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کے معاملے پر نواز شریف سے کسی طرح کی بات ہی نہیں ہوئی ، چوہدری نثار اور مسلم لیگ (ن) میں مقابلہ سخت ہے ،

چوہدری نثار کی کوشش ہے کہ انہیں مسلم لیگ (ن ) سے نکالا جائے،( ن) لیگ چاہتی ہے کہ نثار خود چھوڑ جائیں، میں نہیں سمجھتا جوڈیشل مارشل لا والی بات میں صداقت ہے ، شیخ رشید نے جوڈیشل مارشل لا ء کی بات کر کے اوور سمارٹ بننے کی کوشش کی ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔سید خورشید شاہ نے کہا کہ سابق وزیر اعظم شریف آدمی ہیں انہیں معلوم ہی نہیں کہ کونسا قانون ہے ،دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میاں صاحب کی حالت پررحم کرے ۔ انہوں نے کہا کہ شیری رحمان تجربہ کار پارلیمنٹرین ہیں وہ پڑھی لکھی خاتون ہیں اور سینیٹ میں بطور قائد حزب اختلاف بہترین کردار ادا کریں گی ۔ انہوں نے نوازشریف کے اس سوال کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پیپلزپارٹی بات نہیں ہو گی کہ سوال کے جواب میں کہا کہ ہم نے کب کہا کہ ان سے بات ہو گی ۔ نگران سیٹ اپ کیلئے نوازشریف سے نہیں بلکہ وز یر اعظم سے بات ہو گی، وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف نے مشاورت کرنی ہے اور پھر وہ اپنی جماعتوں کوا س سے آگاہ کرتے ہیں۔ بطور قائد حزب اختلاف اپوزیشن رہنماؤں سے رابطے کئے ہیں اور وہ اپنی جماعتوں میں بات کر کے اپنے نام دیں گے ۔ اگر وزیر اعظم اور قائد حزب اختلاف ناموں پر متفق نہ ہوئے تو یہ معاملہ پارلیمنٹ میں جائے گا جہاں چھ حکومت اور چھ قائد حزب اختلاف کے لوگ ہوں گے اور اگر یہاں بھی اتفاق رائے سے فیصلہ نہ ہوا تو پھر معاملہ چیف الیکشن کمشنر کے پاس جائے گا۔

انہوں نے نواز شریف کی جانب سے سینیٹ انتخابات میں دھوکہ دہی کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ نواز شریف صاحب بتائیں پیپلزپارٹی نے ا ن سے کب رابطہ یا وعدہ کیا تھا کہ ووٹ دیں گے ۔ان کے اپنے لوگوں نے دھوکہ دیا ۔ انہوں نے کہاکہ میاں صاحب کو پیشکش کی تھی کہ پارلیمنٹ میں پاناما بل پاس کر لیتے ہیں ۔میاں صاحب کو سمجھایا تھا کہ اپنی داڑھی کسی کے ہاتھ میں نہ دو۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے نگران سیٹ آپ ماننے یا نہ ماننے سے کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن اخلاقی طور ہر شاہ محمود قریشی اور شفقت محمود سے بات کی ہے ۔

انہوں نے کہاکہ میری کوشش ہو گی کہ ایسا نام آیا جو سب کے لئے قابل قبول ہو ۔میں نہیں سمجھتا جوڈیشل مارشل لا والی بات میں صداقت ہے ،شیخ رشید نے جوڈیشل مارشل لا کی بات کر کے اوور سمارٹ بننے کی کوشش کی ۔نواز شریف اب شہباز شریف کے پیج پر آ گئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار اور مسلم لیگ (ن) میں مقابلہ سخت ہے ،چوہدری نثار کی کوشش ہے کہ انہیں مسلم لیگ(ن) سے نکالا جائے اور(ن) لیگ چاہتی ہے کہ نثار خود چھوڑ جائیں۔ چوہدری نثار برائے نام (ن) لیگ کے ساتھ رہیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…