پیر‬‮ ، 04 مئی‬‮‬‮ 2026 

پاکستان کے وہ واحد وزیراعظم جو اپنا ٹفن بھی گھر سے لاتے تھے۔۔جانتے ہیں وہ عظیم وزیراعظم کون تھے؟ ایسی بات اس سے پہلے آپ نہیں جانتے ہونگے

datetime 23  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے معروف کالم نگار اور اینکر پرسن جاوید چوہدری اپنے تازہ کالم میں لکھتے ہیں کہ میں سپریم کورٹ سے واپس آ رہا تھا تو مجھے1997-98ء کے تین واقعات یاد آ گئے‘ یہ تینوں واقعات چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے متعلق ہیں۔میاں نواز شریف 1997ء میں دو تہائی مینڈیٹ کے ساتھ دوسری مرتبہ پاکستان کے وزیراعظم بنے‘

خالد انور کو وزارت قانون کا قلم دان سونپ دیا گیا‘ خالد انور ایک ایماندار‘ قانون کے ماہر‘ منکسرالمزاج اور انتہائی پڑھے لکھے شخص ہیں‘ یہ ملک کے چوتھے وزیراعظم چودھری محمد علی کےصاحبزادے بھی ہیں‘ چودھری محمد علی ملک کے واحد وزیراعظم تھے جو وزارت عظمیٰ کے دور میں اپنا ٹفن گھر سے لاتے تھے‘ کھانا بھی ان کی بیگم پکاتی تھیں‘وزیراعظم کے گھر میں کوئی ملازم بھی نہیں تھا‘ خالد انور کی پرورش اس گھرانے میں ہوئی تھی‘ یہ میاں نواز شریف کے وکیل تھے‘ یہ وکلاء کے اس پینل میں شامل تھے جس نے 26مئی1993ء کو میاں نواز شریف کی حکومت بحال کرائی تھی‘ میاں صاحب نے اقتدار میں آ کر انہیں وزیر قانون بنا دیا‘ آج کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار اس دور میں وکیل تھے‘ یہ لاہور ہائی کورٹ بار کے سیکرٹری جنرل رہ چکے تھے‘ خالد انور اور ان کی بیگم ان کا بہت احترام کرتے تھے‘ وفاق میں لاء سیکرٹری کا عہدہ خالی تھا‘ خالد انور کی بیگم نے میاں ثاقب نثار سے کہا”خالد کو آپ کی ضرورت ہے‘ آپ لاء سیکرٹری کا عہدہ قبول کر لیں“ میاں ثاقب نثار انکار نہ کر سکے اور یوں یہ میاں نواز شریف کے دوسرے دور میں فیڈرل لاء سیکرٹری بن گئے‘ یہ پاکستان کی تاریخ کے پہلے لاء سیکرٹری تھے جو بار کے عہدیداررہے‘اس پوزیشن پر عموماً بار کے عہدیداروں کو نہیں لگایا جاتا‘

حکومت میں لاء سیکرٹری اہم ترین عہدیدار ہوتا ہے‘ حکومت کی 90 فیصد فائلیں لاء سیکرٹری کے پاس آتی ہیں اور اس کی منظوری سے آگے جاتی ہیں‘ یہ بیس قسم کے ٹریبونلز کا باس بھی ہوتا ہے اور یہ عدالتوں کے سینکڑوں چھوٹے بڑے ایشوز بھی دیکھتا ہے چنانچہ حکومت شاید وزیراعظمکے بغیر چل سکتی ہے لیکن لاء سیکرٹری کے بغیر اس کا چلنا ممکن نہیں ہوتا‘ میاں ثاقب نثار کا اس دور میں میاں نواز شریف کے ساتھ اکثر آمنا سامنا رہتا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…