پیر‬‮ ، 04 مئی‬‮‬‮ 2026 

بلوچستان میں پہلے 20فٹ کھدائی پر پانی نکل آتا تھا اب کتنے ہزار فٹ کھدائی کے بعد بھی پانی کا نام و نشان نہیں،پورا صوبہ کب تک ’’صحرا‘‘ بن جائیگا؟انتہائی تشویشناک خبر سنادی گئی

datetime 22  مارچ‬‮  2018 |

کوئٹہ (این این آئی)بلوچستان میں خشک سالی اور زیر زمین پانی کی سطح گر جانے سے قلت آب کا مسئلہ سنگین صورت اختیار کرگیا ہے اور ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈیمز اور ری چارجنگ پوائنٹس نہ بنائے گئے تو صوبہ صحرا میں تبدیل ہوجائے گا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں نصف صدی قبل کاریز اور چشموں کا پانی دور دور تک بہتا دکھائی دیتا تھا اور 20 سے 25 فٹ کے فاصلے پر کنوؤں کی کھدائی پر پانی نکل آتا تھا تاہم پھر صوبے میں بجلی کے آتے ہی دھڑا دھڑ ٹیوب ویل لگنا شروع ہوگئے۔

دوسری جانب حکومت نے نہ تو ڈیمز بنائے اور نہ ہی غیر قانونی ڈرلنگ کو روکنے کیلئے قانون سازی کی ٗاب صورتحال یہ ہے کہ اس وقت صوبے کے طول وعرض میں 6 ہزار سے زائد ٹیوب ویلز پانی نکال رہے ہیں اور رہی سہی کسر طویل خشک سالی اور آبادی کے اضافے نے پوری کر دی ہے۔بلوچستان میں خشک سالی اور زیر زمین پانی کی سطح دو ہزار فٹ تک گر جانے سے بیشتر اضلاع میں زراعت تباہ ہوکر رہ گئی ہے جبکہ کوئٹہ اور گوادر کے باسیوں کو پینے کے پانی کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ماہرین نے یہ کہہ کر خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے کہ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح گرنے سے زمین سالانہ 10 سینٹی میٹر دھنس رہی ہے۔کوئٹہ کے باسیوں کو پانی فراہم کرنے والے ادارے واسا کے حکام کے مطابق کوئٹہ میں پانی کی ضرورت 5 کروڑ گیلن روزانہ ہے مگر واسا کی جانب سے شہریوں کو 3 کروڑ گیلن یومیہ پانی فراہم کیا جا رہا ہے ٗ 2 کروڑ گیلن پانی کی قلت کا سامنا ہے۔کوئٹہ شہر میں واسا کے 417 ٹیوب ویلز ہیں جن میں 100 کے لگ بھگ ٹیوب ویلز خراب ہوچکے ہیں۔واسا حکام کے مطابق کوئٹہ میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے منگی ڈیم پر کام جاری ہے، جو 2 سال میں مکمل ہو جائے گا، اس ڈیم سے شہر کو یومیہ 8 کروڑ گیلن پانی مل سکے گا، جس سے شہر میں پانی کا مسئلہ کچھ عرصے کے لیے حل ہوجائے گا۔ماہرین آب کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں اس وقت جو پانی استعمال کیا جارہا ہے وہ آئندہ نسلوں کے حصے کا پانی ہے۔قلت آب کے باعث صوبے سے لوگوں کی ہجرت روکنے کے لیے حکومت کو ڈیموں اور ری چارجنگ پوائنٹس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ ایک جامع آبی پالیسی بھی نافذ کرنا ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)


ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…