اسلام آباد (نیوزڈیسک)جو یشل کمیشن میں پاکستان تحریک انصاف نے سوالنامے کا جواب جمع کرادیا ہے جس میں کہا گیا کہ (ن )لیگ کے سیاسی سیل نے انتخابات میں منظم دھاندلی کا منصوبہ بنایا تفصیلات کے مطابق ممکنہ انتخابی دھاندلی پر بنائے گئے جوڈیشل کمیشن کے سوالنامے پر تحریک انصاف نے اپنا جواب جمع کرا دیا جوڈیشل کمیشن نے سوال پوچھا تھا کہ کیا عام انتخابات 2013 صاف شفاف ، غیر جانبدار اور ایماندارانہ انداز سے ہوئے ؟ جس پر تحریک انصاف نے جواب میں کہا کہ عام انتخابات 2013 صاف شفاف ، غیر جانبدار اور ایماندارانہ انداز میں نہیں ہوئے ، جوڈیشل کمیشن کا سوال تھا کہ انتخابات میں دھاندلی کا منصوبہ کس نے بنایا؟ جس کے جواب میں کہا گیا کہ انتخابات میں منظم دھاندلی کا منصوبہ مسلم لیگ (ن )کے سیاسی سیل نے بنایا ، مسلم لیگ (ن )کسی بھی قیمت پر الیکشن جیتنا چاہتی تھی۔ منصوبہ سازوں نے منظم دھاندلی کا منصوبہ (ن )لیگ کی قیادت کو پیش کیا جوڈیشل کمیشن نے یہ بھی سوال کیا تھا کہ عام انتخابات 2013 میں منظم دھاندلی کا کیا منصوبہ تھا؟ جس کے جواب میں پی ٹی آئی نے موقف اختیار کیا کہ منظم دھاندلی کے منصوبے میں پنجاب سے قومی اسمبلی کی زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنا شامل تھا جوڈیشل کمیشن نے اس سوال کا بھی جواب طلب کیا تھا کہ منظم دھاندلی کے منصوبے پر عملدرآمد کس نے کیا جس کے جواب میں کہا گیا کہ منصوبے پر اس کے تخلیق کاروں ¾( ن )لیگ کے حمایتیوں ، ہم نشینوں اور رفقائ نے عمل کیا ، دھاندلی کے منصوبے میں آر اوز ، پریذائیڈنگ آفیسرز ، پولنگ عملے اور انتخابی مشینری نے مدد فراہم کی جوڈیشل کمیشن کی جانب سے یہ بھی پوچھا گیا تھا کہ کیا منظم دھاندلی صرف قومی اسمبلی کی حد تک تھی یا صوبائی اسمبلیاں بھی شامل تھیں ؟ تحریک انصاف نے جواب میں کہا کہ منظم دھاندلی قومی اور صوبائی بالخصوص پنجاب ، سندھ اور بلوچستان کی حد تک تھی ، جوڈیشل کمیشن کے سوالنامے میں منظم دھاندلی کے حوالے سے دستاویزات اور شواہد بھی طلب کیے گئے تھے جس کے جواب میں تحریک انصاف نے موقف اختیار کیا کہ دھاندلی کے الزامات سے متعلق 74 قومی و صوبائی اسمبلیوں سے متعلق مواد جمع کرا چکے ہیں الزامات سے متعلق ویڈیو ریکارڈ اور نادرا کی فرانزک رپورٹ بھی جمع ہوچکی ہے۔ جوڈیشل کمیشن نجم سیٹھی اور انتخابات کے وقت کے چیف سیکرٹری پنجاب کو طلب کر کے جرح کرے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دوسری سیاسی جماعتوں کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد پر انحصار کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔ انتخابی ریکارڈ کا آڈٹ فارم 14 سے 17 تک کے معائنہ کے نتائج پر انحصار کا ارادہ رکھتےہیں ، سپیشل تحقیقاتی ٹیم کے نتائج پر بھی انحصار کریں گے ، الزامات سے متعلق قابل ذکر شواہد کی نشاندہی اور ممکنہ حد تک ثبوت فراہم کر چکے ہیں ، تحریک انصاف آرڈیننس کے تینوں سوالوں سے متعلق شواہد تک رسائی نہیں رکھتی ، تحریک انصاف کا اپنے جواب میں کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کا کردار معاونت فراہم کرنے کا ہے ، الزامات ثابت کرنے کا بوجھ صرف سیاسی جماعتوں پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ کمیشن قانونی طور پر آرڈیننس کے تین سوالوں کی انکوائری اور حتمی رپورٹ دینے کا پابند ہے
جو یشل کمیشن,تحریک انصاف نے سوالنامے کا جواب جمع کرادیا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان
-
’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘
-
پنجاب میں گاڑیوں کی نمبر پلیٹس بارےحکومت کا بڑا فیصلہ
-
عیدالاضحیٰ کی تعطیلات؛ بینک کتنے دن بند رہیں گے؟
-
برطانوی ریڈیو نے اچانک کنگ چارلس کی موت کا اعلان کردیا، ہلچل مچ گئی
-
پنجاب میں عیدالاضحیٰ تعطیلات کا اعلان، سرکاری دفاتر بند رہیں گے
-
8سالہ پاکستانی نژاد بچے نے ناسا کی غلطی پکڑلی، ایجنسی کا نشاندہی پر شکریہ
-
سونے کی قیمت میں حیران کن کمی
-
لیسکو کی تمام ڈبل سورس کنکشن ایک ہفتے میں ہٹانے کی ہدایت
-
بجلی کے بل پر کیو آر کوڈ کی آڑ میں صارفین کی معلومات چوری ہونے کا خدشہ،پاورڈویژن نے ایڈوائزری جاری...
-
محمد عامر کی شاہین آفریدی کے بارے میں تین سال قبل کی گئی بات سچ ثابت ہوگئی
-
ایرانی پٹرولیم مصنوعات سے پاکستانی ریفائنریوں کو شدیدخطرات
-
ٹرمپ نے بیٹے کی شادی میں شرکت سے انکار کیوں کیا؟ وجہ سامنے آگئی
-
ایران نے امریکہ سے مذاکرات کے لیے وفد کے ناموں کا اعلان کر دیا



















































