جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

جولائی 2016 میں بھائی کے ہاتھوں قتل ہونے والی قندیل بلوچ کے مقدمے کا کیا بنا؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) معروف ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں جج کی رخصت کے باعث مفتی عبدالقوی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔قندیل بلوچ کے قتل کیس میں نامزد گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز کو عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ ملزم مفتی قوی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔تاہم جج کی رخصت کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی اور کیس کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔

و اضح رہے کہ جولائی 2016 میں ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، مقدمے میں مقتولہ کے کزن حق نواز کو بھی نامزد کیا گیا، یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔ مفتی عبدالقوی، قندیل بلوچ کے ہمراہ اس وقت منظرعام پر آئے تھے جب 2016 میں رمضان المبارک کے دوران ماڈل نے چند سیلفیز اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔بعدازاں قندیل بلوچ کے ساتھ متنازع سیلفیز کو جواز بناکر ان کے والد عظیم کی درخواست پر رویت ہلال کمیٹی کے سابق رکن مفتی عبدالقوی کو بھی ضابطہ فوجداری کی دفعہ 109 کے تحت مقتولہ کے بھائی کو اکسانے کے الزام میں مقدمے میں نامزد کردیا گیا تھا معروف ماڈل قندیل بلوچ قتل کیس میں جج کی رخصت کے باعث مفتی عبدالقوی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی۔قندیل بلوچ کے قتل کیس میں نامزد گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز کو عدالت میں پیش کیا گیا، جبکہ ملزم مفتی قوی بھی عدالت میں پیش ہوئے۔تاہم جج کی رخصت کے باعث ملزمان پر فرد جرم عائد نہ ہوسکی اور کیس کی سماعت 9 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔ و اضح رہے کہ جولائی 2016 میں ماڈل قندیل بلوچ کو ان کے بھائی وسیم نے مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کردیا تھا، مقدمے میں مقتولہ کے کزن حق نواز کو بھی نامزد کیا گیا، یہ دونوں ملزمان اس وقت ملتان جیل میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…