ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈالر کی قیمت میں اضافہ، 3سابق بینکرز اور 5کاروباری افراد اوراہم حکومتی شخصیات ملوث نکلیں، ڈالر کا مصنوعی بحران پیدا کر کے دو روز میں 80ارب روپے کمائے،ملک کے بیرونی قرضے کہاں تک جا پہنچے؟

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ڈالر کی اونچی اڑان ، 8روپے اضافہ کے ساتھ قیمت 118.50ہو گئی ہے،ڈالر کی قدر میں اضافے سے پاکستانی معیشت پر بھی بوجھ پڑا ہے اور بیرونی قرضوں کا حجم 800ارب تک بڑھ گیا ہے۔ یورو، پائوند اور دیگر کرنسیوں کی قدر میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا ہے، ڈالر اور دیگر طاقتور کرنسیوں کی قیمت میں اضافے پر لاہور چیمبر آف کامرس نے وارننگ

جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ہنگامی اقدامات نہ کئے گئے تو معیشت کو نقصان پہنچے گا جبکہ فاریکس ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت ایسے جھٹکے کی متحمل نہیں ہو سکی۔ دوسری جانب ڈالرز اور دیگر غیر ملکی کرنسیوں کی قیمت میں غیر معمولی اضافے کے باعث مہنگای کے طوفان کی آمد کا بھی مژدہ سنا دیا گیا ہے۔ پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ 92نیوز کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈالر کی قیمت میں اچانک اضافہ اور مصنوعی بحران پیدا کرنے کے پیچھے اہم حکومتی شخصیات ملوث ہیں، تحقیقاتی اداروں کو مافیا کیساتھ گٹھ جوڑ کے اہم ثبوت مل گئے ہیں، دو روز میں اربوں مالیت کے ڈالر خریدے گئے ۔ کرنسی مافیا نے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے صرف 2روز میں 80ارب روپے کمائے، کچھ اہم افراد نے تو سونا بھی ڈالرز میں خریدا ہے۔ 2حکومتی افراد، 3سابق بینکرز، 5کاروباری اور دبئی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی ڈالر کی قیمت میں اضافے کا علم تھا۔ اہم ترین حکومتی شخصیت ڈالر مافیا کی بھرپور سپورٹ کر رہی ہے ، ذرائع کے مطابق کچھ عرصہ قبل بھی اس کی سفارش پر کارروائی روک دی گئی تھی۔ رپورٹ میں باوثوق ذرائع کے مطابق بتایا گیا ہے کہ دبئی سے تعلق رکھنے والی دو اہم ترین شخصیات سمیت ڈالر مافیا کے خلاف انکوائری شروع ہو گئی ہے۔ انویسٹی گیشن کرنے والے اداروں کو ڈالر کا مصنوعی بحران پیدا

کر کے قیمت میں اچانک اضافہ کرنے والے مافیا کے انٹرنیشنل مافیا کیساتھ رابطوں کے حوالے سے بھی اہم ثبوت مل گئے ہیں۔ ڈالر کی قیمت میں اضافہ کا علم پاکستان کے تین سابق بینکرز، پانچ معروف کاروباری شخصیات، دبئی سے تعلق رکھنےو الی معروف ترین کاروباری شخصیات کیساتھ حکومت سے تعلق رکھنے والے 2افراد کو بھی تھا۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ باقاعدہ یہ مافیا دو روز سے اس قدر

متحرک تھا کہ اربوں روپے کے ڈالرز خریدے گئے۔ مافیا کے کچھ اہم افراد نے تو سونے کو بھی دو روز پہلے ڈالرز میں خریدا۔ اہم ترین اداروں کی ابتدائی انویسٹی گیشن رپورٹ کے مطابق ڈالر مافیا نے صرف دو روز کے اندر 80ارب روپے سے زائد کی رقم صرف ڈالر مہنگا ہونے سے کمائی۔ اس میں ڈالر مافیا کیساتھ حکومتی حلقوں سے تعلق رکھنے والی اہم ترین شخصیات بھی شامل ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل بھی جب ڈالر کی اچانک قیمت میں اضافہ ہوا تھا تو اس وقت بھی اسی مافیا کے اہم افراد اس میں شامل تھے۔ اس وقت ان کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ایک اہم ترین حکومتی شخصیت جو کہ اس وقت اہم ترین عہدہ پر فائز تھی کی سفارش پر اس مافیا کے خلاف کارروائی کو روک دیا گیا تھا ، وہ اب بھی ڈالر مافیا کی بھرپور سپورٹ کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…