جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

2005ء میں میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کتنی تھی؟ایسا انکشاف کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

datetime 20  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی ) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر خواجہ خاور رشید ، نائب صدر ذیشان خلیل اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین نے ڈالر کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس رحجان پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے وگرنہ معیشت کو بھاری نقصان ہوگا۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ انٹربینک ڈالر ریٹ خطرے کی گھنٹی بجارہاہے،

معاشی بحران سے بچنے کے لیے سٹیٹ بینک کو فوری طور پر حرکت میں آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پہلے ہی 89ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرضوں، مایوس کن برآمدات اور بڑھتے تجارتی خسارے جیسے بھاری مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں روپے کی قدر میں کمی اونٹ کی پشت پر آخری تنکا ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 60کی دہائی میں ڈالر کی قیمت 4.76روپے، 2005ء میں 59.30روپے تھی جو رواں مالی سال کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس کی وجہ سے ملک کو بھارتی تجارتی خسارے، درآمدات کی لاگت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا رہا، اگر معاملات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ مسائل مزید شدت اختیار کریں گے، صنعتی پیداوار میں کمی ہوگی، قرضوں میں ازخود اضافہ ہوجائے گا، برآمدات مزید مشکلات کا شکار ہونگی، افراط زر کی شرح بڑھ جائے گی اور عوام کی قوت خرید کم ہوگی جس سے معاشی چیلنجز مزید شدت اختیار کریں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافے کے منفی اثرات سے صنعت و تجارت اور زراعت سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا، پاکستان کو ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل کے علاوہ کھادیں، اشیائے خورد و نوش، مشینری اور صنعتی خام مال درآمد کرنے پڑتے ہیں ، یہ تمام اشیاء مہنگی ہوجائیں گی جس سے تمام طبقات متاثر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے اور یہ مزید دباؤ برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی لہذا حکومت بالخصوص سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…