ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

2005ء میں میں پاکستانی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت کتنی تھی؟ایسا انکشاف کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا

datetime 20  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(این این آئی ) لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے قائم مقام صدر خواجہ خاور رشید ، نائب صدر ذیشان خلیل اور ایگزیکٹو کمیٹی اراکین نے ڈالر کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سٹیٹ بینک آف پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس رحجان پر قابو پانے کے لیے ہنگامی اقدامات اٹھائے وگرنہ معیشت کو بھاری نقصان ہوگا۔ ایک بیان میں لاہور چیمبر کے عہدیداروں نے کہا کہ انٹربینک ڈالر ریٹ خطرے کی گھنٹی بجارہاہے،

معاشی بحران سے بچنے کے لیے سٹیٹ بینک کو فوری طور پر حرکت میں آنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو پہلے ہی 89ارب ڈالر کے قریب بیرونی قرضوں، مایوس کن برآمدات اور بڑھتے تجارتی خسارے جیسے بھاری مسائل کا سامنا ہے، ایسے میں روپے کی قدر میں کمی اونٹ کی پشت پر آخری تنکا ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ 60کی دہائی میں ڈالر کی قیمت 4.76روپے، 2005ء میں 59.30روپے تھی جو رواں مالی سال کے دوران بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس کی وجہ سے ملک کو بھارتی تجارتی خسارے، درآمدات کی لاگت اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے جیسے مسائل کا سامنا رہا، اگر معاملات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ مسائل مزید شدت اختیار کریں گے، صنعتی پیداوار میں کمی ہوگی، قرضوں میں ازخود اضافہ ہوجائے گا، برآمدات مزید مشکلات کا شکار ہونگی، افراط زر کی شرح بڑھ جائے گی اور عوام کی قوت خرید کم ہوگی جس سے معاشی چیلنجز مزید شدت اختیار کریں گے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے عہدیداروں نے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں تیزی سے اضافے کے منفی اثرات سے صنعت و تجارت اور زراعت سمیت کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا، پاکستان کو ضروریات پوری کرنے کے لیے تیل کے علاوہ کھادیں، اشیائے خورد و نوش، مشینری اور صنعتی خام مال درآمد کرنے پڑتے ہیں ، یہ تمام اشیاء مہنگی ہوجائیں گی جس سے تمام طبقات متاثر ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے اور یہ مزید دباؤ برداشت کرنے کی متحمل نہیں ہوسکتی لہذا حکومت بالخصوص سٹیٹ بینک آف پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھانا ہونگے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…