ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

معصوم بچوں کو قتل کرنے کا مکروہ دھندہ عروج پر،پاکستان کا وہ شہر جہاں صرف 3 ماہ میں 40 سے زائد نومولودبچوں کی لاشیں مل چکی ، لرزہ خیز انکشافات

datetime 19  مارچ‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) شہرقائد میں نومولود بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، پولیس ملوث عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، پولیس کے مطابق زیادہ تر بچے اسقاط حمل کے ذریعے ضائع کئے جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہر کراچی میں نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا کے اعدادوشمار کے مطابق 3 ماہ میں 40 سے زائد نومولودبچوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔زیادہ تر لاشیں اسپتالوں کے باہر گلی کوچوں میں کھلنے والے کلینک کے قریب سے ملی ہیں۔تفتیشی حکام کے مطابق ان واقعات میں ملوث عناصر کے خلاف زنا ایکٹ کے تحت مقدمات درج کیے جائیں گے جبکہ ان کے خلاف قتل کی دفعات بھی شامل کی جائیں گی۔ کچھ دن قبل جناح اسپتال سے عائشہ نامی جعلی ڈاکٹرپکڑی گئی جس پر شبہ ظاہر کیا گیا کہ ملزمہ غیر قانونی طریقے سے اسقاط حمل کی سہولت فراہم کرتی تھی۔ علاوہ ازیں اکثر بچوں کو پیدائش سے قبل ہی اسقاط حمل کے ذریعے ضائع کر دیا جاتا ہے ۔ایدھی اور چھیپا جیسے فلاحی اداروں کی جانب سے ایسے جرم سے بچنے کے لئے جھولے بھی لگائے گئے ہیں۔اسقاط حمل میں کچھ ڈاکٹرز اور جعلی اسپتال بھی ملوث ہیں۔ پولیس کے مطابق زیادہ تر بچے اسقاط حمل کے ذریعے ضائع کئے جاتے ہیں۔  شہرقائد میں نومولود بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، پولیس ملوث عناصر کو گرفتار کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، پولیس کے مطابق زیادہ تر بچے اسقاط حمل کے ذریعے ضائع کئے جاتے ہیں۔تفصیلات کے مطابق شہر کراچی میں نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملنے کے واقعات میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن اور چھیپا کے اعدادوشمار کے مطابق 3 ماہ میں 40 سے زائد نومولودبچوں کی لاشیں مل چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…