ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ملک کی بڑی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام پر پابندی عائد

datetime 19  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے ملک کی 13 جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام پر پابندی عائد کردی گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایچ ای سی کی جانب سے یہ ان پروگرام پر پابندی ڈسٹینس لرننگ پروگرام کی شرائط پوری نہ کرنے پر لگائی گئی،اس حوالے سے ایچ ای سی کے نمائندے محمد اسماعیل کی جانب سے تمام جامعات کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا کہ کمیٹی کی جانب سے حتمی تجاویز تک جامعات ڈسٹینس ایجوکیشن پروگرام میں مزید داخلہ نہیں دے سکتیں۔

اس اقدام سے تقریبا 4 ہزار طلبا و طالبات متاثر ہوں گے، تاہم ایچ ای سی کی جانب سے ہدایت کی گئی ہے کہ ایم ایس، ایم فل، پی ایچ ڈی پروگرامز میں انرول طالب علم اپنی تعلیم کے نقصان کے بغیر کسی دوسری جامعہ میں داخلہ لے سکتے ہیں اور اس حوالے سے ایچ ای سی کی ہدایت پر عمل کیا جائے گا۔ایچ ای سی کی جانب سے جن جامعات پر اس پابندی کا اطلاق ہوگا ان میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد، ورچوئل کیمپس کومسیٹ انسٹیٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی اسلام آباد، یونیورسٹی آف پشاور، گومل یویورسٹی ڈیرہ اسماعیل خان، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد، یونیورسٹی آف ایگری کلچر فیصل آباد، یونیورسٹی آف فیصل آباد، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور، بہاالدین ذکریا یونیورسٹی ملتان، سکھر آئی بی اے، شاہ عبدالطیف یونیورسٹی خیرپور، یونیورسٹی آف سندھ جامشورو اور یونیورسٹی آف کوئٹہ بلوچستان شامل ہیں۔دوسری جانب ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر مختار نے بتایا کہ یہ اقدام طالب علموں کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ جامعات تھیں جو قانونی طور ڈسٹینس ایجوکیشن پروگرام آفر نہیں کر رہی تھی اور ایچ ای سی کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پرائیویٹ پروگرام ختم کرکے ان طلبا کو رجسٹرڈ کیا جائے اور انہیں انڈر گریجویٹ کی سطح پر ڈگری پروگرام میں شامل کیا جائے لیکن ان جامعات نے اس پروگرام میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کو بھی شامل کرلیا جو قانونی طور پر درست نہیں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی متعدد جامعات کا دورہ کیا گیا تھا اور ایچ ای سی کی ضروریات پر پورا نہ اترنے والی جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی پروگرام بند کردیا گیا تھا۔ڈاکٹر مختیار نے کہا کہ پی ایچ ڈی پروگرام کرانے کے لیے اس کی فکیلٹی کا ہونا ضروری ہے اور انرولمنٹ کے لیے بھی ایک حد مقرر ہے، اس کے ساتھ جس فکیلٹی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی نہیں ہے وہ جامعہ وہ کیسے کرواسکتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…