ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلز پارٹی میں بھی تبدیلی آ گئی، اہم ترین رہنما نے ’’بھٹو کے نظریے‘‘ کو ’’ردی‘‘ کا ٹکڑا قرار دے دیا

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے نظریے نے نہیں بلکہ آصف زرادری کی شخصیت نے متاثر کیا، ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ دور طالب علمی میں جمعیت علماء اسلام (ف) کی طلباء تنظیم کا صدر تھا اور میں اب بھی مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتا ہوں،

انہوں نے کہا کہ فضل الرحمان پہلے بھی مجھ پر مہربان تھے اور آج بھی ہیں، انہوں نے کبھی بد اعتماد ی کی کوئی بات نہیں کی۔ عبدالقیوم سومرو نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ بطور میڈیکل آفیسر سینٹر جیل کراچی میں قید آصف علی زرداری سے پہلی بار ملاقات ہوئی تھی اور ان کے معالج کے طور پر وہاں ان سے شناسائی ہوئی، میری آصف زرداری سے جیل کی ملاقات متاثر کن رہی اور انہیں ایک بہترین شخصیت کے روپ میں پایا۔ ڈاکٹر عبدالقیوم سومرو نے کہا کہ میں پی پی پی کے نظریے نہیں بلکہ آصف زرداری کی شخصیت سے متاثر ہو کر سیاست میں آیا۔ انہوں نے کہاکہ میں 2008ء اٹھارہ گریڈ کا آفیسر تھا لیکن آصف زرداری کے کہنے پر سرکاری نوکری چھوڑ کر سیاست میں قدم رکھا۔ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں اس تمام عرصہ اس کوشش میں رہا کہ فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کو قریب لا سکوں، انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری محسن ہیں اور آج بھی جس مقام پر ہوں ان ہی کی وجہ سے ہوں، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ تجزیہ کاروں نے کہا کہ سینٹ کے انتخابات وقت پر ہوتے نظر نہیں آ رہے لیکن بتانا چاہتا ہوں کہ سینیٹ انتخابات پیپلز پارٹی کی وجہ سے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان حکومت میں اگر ایک روپے کی بھی کرپشن، لین دین ہوئی ہو تو آج بھی ذمہ دار ہوں گا اور دس سال بعد بھی ذمہ دار ہوں گا اورکرپشن ثابت ہونے کی صورت میں اس کا جواب دہ بھی ہوں گا۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ میں عمرے پر جا رہا ہوں اور حلفاً کہتا ہوں کہ ہم نے بلوچستان حکومت کی تبدیلی میں کوئی پیسہ استعمال نہیں کیا ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…