جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

موجودہ حکمران مظلوموں کی بد دعاؤں سے اللہ کی پکڑ میں آ چکے ،نوازشریف اور عمران خان کو جوتے کیوں پڑے؟ عائشہ گلالئی نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 17  مارچ‬‮  2018 |

دنیاپور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف گلالئی کی چیئرپرسن عائشہ گلا لئی نے کہا ہے موجودہ حکمران مظلوموں کی بد دعاؤں سے اللہ کی پکڑ میں آ چکے ہیں ملک میں تبدیلی لانے کا دعویٰ کرنے والے عمران خان بھی روایتی اور موروثی سیاست کر رہے ہیں ،پی ٹی آئی گل لئی مظلوم عوام کے حقوق کیلئے ظالموں کے خلاف جہاد کر رہی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے سٹی پریس کلب دنیاپور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا عمران خان جو ملک میں تبدیلی لانے کے دعوے کرتے تھےانہوں بھی پیسے کی سیاست اور موروثی سیاست کو فروغ دے رہے ہیں علاوہ لودھراں کے حلقے میں علی خان ترین کے علاوہ کوئی اور امیدوار نظر نہیں آیا مگر اسے بھی عوام نے مسترد کر کے ثابت کر دیا کے عوام بھی پیسے اور جاگیردارانہ نظام کی روایتی سیاست نہیں چاہتے۔ انہوں نے کہا ان کی جماعت ملک میں مودبانہ سیاست کو فروغ دے گی کیوں کہ نواز شریف اور مریم نواز کا عدلیہ پر تنقید کرنا اچھی سیاست نہیں کیونکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ملک میں کرپٹ نظام کے خلاف اب انقلابی گھنٹیاں بجنے لگی ہے جس کا اظہار عوام سیاستدانوں پر سیاہی اور جوتے پھینک کر شروع کردیا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کرپٹ نظام کی بدولت 10 فیصد طبقہ 90 فیصد عوام پر حکمرانی کر رہا ہے جس کے باعث غریب غریب تر اور امیر امیر تر ہوتا چلا جارہا ہے غریب مزدور کسان طبقہ معاشی طور پر تباہ ہوچکا ہے پی ٹی آئی گلالئی ملک بھر سے تمام چھوٹی جماعتوں اور مخلص کارکنوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے غریب عوام کی نمائندگی کرے گی ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا سینٹ کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کی حمایت صرف اس لئے کی کے پیپلزپارٹی اداروں کا احترام کرتی ہے اس موقع پر پی ٹی آئی گلالئی کے میڈیا کوآرڈنیٹر ملک منصور احمد و پی ٹی آئی گلالئی کے کارکنان بھی موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…