ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان میں پینے کے پانی کا مسئلہ ختم، عوام اب سمندر کا پانی پینے کے لیے استعمال کر سکیں گے، چین نے زبردست منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا

datetime 17  مارچ‬‮  2018 |

کوئٹہ (مانیٹرنگ ڈیسک) گوادر کے شہریوں کو پینے کا صاف پینے مہیا کرنے کے لیے چین نے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام کا آغاز کردیا ہے، میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ چین نے سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا ہے اور اس پلانٹ سے گوادر کے شہریوں کو روزانہ روزانہ ڈھائی لاکھ گیلن پینے کا صاف پانی دیا جائے گا،

چین، وفاقی اورصوبائی حکومت نے مل کر گوادر میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے منصوبوں پر کام شروع کر دیا گیا ہے جن کی لاگت اربوں روپے بنتی ہے، ان منصوبوں کے مکمل ہونے پر گوادر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔ گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے اس حوالے سے بتایا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت گوادر میں پینے کے صاف پانی کا مسئلہ حل کرنے کے لیے متعدد منصوبوں پر کام کر رہی ہے، گوادر کے رہنے والوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے لیے دو ڈیمز کا 80 فیصد کام مکمل کر لیا گیا ہے، یہ دو ڈیم سوڑ اور شادی کور ہیں، گوادر تک ان ڈیمز سے پانی پائپ لائنز کے ذریعے لایا جائے گا، انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں پر 4 ارب سے زائد لاگت آئے گی اس کے علاوہ میرانی ڈیم سے پانی کی ترسیل کے لیے فزیبلٹی رپورٹ پر کام ہو رہا ہے اس کے لیے 15کروڑ روپے بھی جاری ہو چکے ہیں میرانی ڈیم کے منصوبے پر 7 سے 8 ارب روپے لاگت آئے گی، انہوں نے مزید بتایا کہ چین نے بھی سمندر کے پانی کو میٹھا بنانے کے لیے ڈی سیلینیشن پلانٹ منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا ہے، اس منصوبے سے گوادر کے شہریوں کو ڈھائی لاکھ گیلن پینے کا پانی مہیا کیا جائے گا، گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین دوستین جمالدینی نے بتایا کہ ڈی سیلینیشن پلانٹ لگانے کے لیے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن نے بھی کام کا آغاز کر دیا ہے اور اس پلانٹ سے بھی گوادر کو دو لاکھ گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…