جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

33نمبر پورے ہوگئے،تحریک انصاف یا پیپلزپارٹی؟سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کون ہوگا؟تحریک انصاف اور پی پی پی میں ٹھن گئی،تحریک انصاف نے بڑا قدم اُٹھالیا

datetime 17  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوزڈیسک)سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر کے لیے نامزد پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہا ہے کہ انھیں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر بننے کے لیے مطلوبہ اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمن نے کہا کہ اپوزیشن کے 33 سینیٹرز نے میری حمایت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے بھی بات چیت کے لیے ہمارے دروازے کھلے ہیں۔حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انھوں نے کہا

کہ ہم مسلم لیگ (ن)کی طرح مذاکرات کے دروازے بند نہیں کرتے۔انھوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی والے ہمارے ساتھ بیٹھنا چاہیں تو ہم خوش آمدید کہیں گے کیونکہ پیپلزپارٹی اور پی ٹی آئی مل کر بیٹھیں گے تو کارکردگی بہتر ہوگی۔شیری رحمٰن نے کہا کہ ہم نے اپنی اکثریت کے حوالے سے دستاویزات دستخط کروانے کے بعد جمع کرا دی ہیں۔سینیٹ انتخابات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ہمیں اسٹیبلشمنٹ کا طعنہ دینے والے اصغر خان کیس بھول گئے ہیں اور مسلم لیگ (ن) جس طرح پیپلزپارٹی کی حکومتیں گراتی رہی سب کو معلوم ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے کام کرنے پر مسلم لیگ (ن) کو کیوں تکلیف ہوتی ہے، ہمیں ایوان چلانے آتے ہیں لیکن مسلم لیگ (ن) کو نہیں۔متوقع اپوزیشن لیڈر سینیٹ نے کہاکہ نواز شریف صرف 4 بار ایوان میں آئے تھے اور اس وقت احتساب سے بھاگتے پھر رہے ہیں پھر اب مسلم لیگ (ن) کو ایوان کی کیوں فکر لگی ہے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے وزراء اعظم روزانہ ایوان میں آتے تھے اور ہم دونوں ایوانوں میں موجود ہوتے تھے۔دریں اثناء تحریک انصاف نے پیپلزپارٹی کے 33سینیٹرز کے آمادگی کے لیٹر کو غیرقانونی قراردے دیا ہے اور اس سلسلے میں پی پی کے امیدوار کے اپوزیشن لیڈر بننے کے تاثر کے خلاف چیئرمین سینٹ کو خط لکھ دیا ہے،خط میں کہاگیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر سینیٹرز کے دستخط کا آمادگی لیٹر سولہ مارچ کے بعد ہی جمع کراسکتاتھا،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…