جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

راء کے 5مبینہ ایجنٹس عدم ثبوتوں کی وجہ سے بری

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

کراچی(سی پی پی) انسداد دہشت گردی عدالت نے ریاست مخالف سرگرمیوں، دھماکا خیز مواد اور اسلحہ رکھنے کے الزام میں مبینہ طور پر بھارتی خفیہ ایجنسی را سے تعلق رکھنے والے ملزمان کو عدم ثبوتوں کی وجہ سے بری کردیا۔محکمہ انسداد دہشت گردی نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے محمد شفیق خان عرف پپو، کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ملازم عبد الجبار عرف ظفر ٹینشن، محسن خان عرف کاشف، خالد امان عرف داد

اور عادل انصاری کو 2015 میں گلستان جوہر سے بھارت کی خفیہ ایجنسی را سے تعلق ہونے، بھارت سے ٹریننگ لینے، دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے اور ریاست مخالف سرگرمیوں اور اسلحہ اور گولہ بارود رکھنے کے جرم میں گرفتار کیا تھا۔گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے جانے اور دونوں اطراف کے بیانات سننے کے بعد عدالت کے جج نے ملزمان پر عدم ثبوتوں کی وجہ سے تمام چارجز ختم کردیے۔خیال رہے کہ جوڈیشل مجسٹریٹ نے ملزم خالد امان کا اعترافی بیان کرمنل پروسیجر کوڈ 2015 کے سیکشن 164 کے تحت قلم بند کیا تھا۔تاہم ملزمان کے وکیل مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ اعترافی بیان میں قانونی وزن نہیں کیونکہ بیان ریکارڈ کیے جانے کے بعد مجسٹریٹ نے ملزم کو جیل بھیجنے کے بجائے پولیس کے حوالے کردیا تھا۔استغاثہ کے مطابق محکمہ انسداد دہشت گردی نے 27 اگست کو گلستان جوہر سے مقابلے کے بعد 4 افراد کو حراست میں لیا تھا۔بعد ازاں سی ٹی ڈی نے ان کے ایک اور ساتھی عادل انصاری کو بھی گرفتار کرلیا تھا۔سی ٹی ڈی نے دعوی کیا تھا کہ حراست میں لیے گئے ملزمان بھارت سے تربیت یافتہ را کے ایجنٹس تھے اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھے۔لندن میں مقیم ایم کیو ایم کے رہنما محمد انور اور دیگر دو محمود صدیقی اور محمد سلمان بھی کیس میں مطلوب ہیں۔استغاثہ نے مزید کہا کہ تفتیش کے دوران ملزم امان نے بتایا کہ محمد انور اور محمود صدیقی نے انہیں را سے ٹریننگ دلانے میں کردار ادا کیا تھا۔

امان نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا تھا کہ تربیت کے بعد اسے حراست میں لینے کے بعد دہلی کی جیل بھیج دیا گیا تھا۔بعد ازاں ایم کیو ایم کے رہنما نے محمود صدیقی کے ہمراہ لندن سے آئے تھے اور انہیں جیل سے رہا کراکے امان کو را کی مدد سے واپس پاکستان بھیجا تھا۔خیال رہے کہ ملزمان دھماکا خیز مواد رکھنے کی دفعہ 1908 اور سندھ اسلحہ ایکٹ 2013 کے کیس میں بھی نامزد ہیں۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…