ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ہائیکورٹ کا نوازشریف،مریم نواز سمیت 16لیگی اراکین کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر پیمراکی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پراظہار برہمی

datetime 15  مارچ‬‮  2018 |

لاہور (ا ین این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے سابق وزیراعظم نوازشریف،مریم نواز سمیت 16لیگی اراکین کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر پیمراکی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پراظہار برہمی کرتے ہوئے تمام فریقین کو پیمرا کی رپورٹ کے بعد دلائل دینے کی ہدایت کر دی ۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے درخواست پر سماعت کی۔درخواست آمنہ ملک نے ایڈووکیٹ اظہر صدیق کی وساطت سے دائر کر رکھی ہے۔

جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نواز شریف ،ان کی صاحبزادی اور لیگی رہنما عدلیہ مخالف تقاریر کر رہے ہیں ،نواز شریف مریم نواز اور وزیراعظم شاید خاقان عباسی مسلسل عدلیہ مخالف تقاریر کر رہے ہیں،پیمرا نواز شریف اور دیگر کی عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات روکنے کے کیے کوئی اقدامات نہیں کر رہی ۔ لہٰذا معزز عدالت سے استدعا ہے کہ عدالت پیمرا کو نواز شریف سمیت دیگر کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے سے روکے اور عدالت توہین آمیز تقاریر نشر کرنے والے میڈیا ہاؤسز کا لائسنس منسوخ کرنے کا بھی حکم دے۔سماعت کے دوران عدالت نے پیمرا کی جانب سے عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے والے چینلز کے خلاف کارروائی بارے رپورٹ جمع نہ کروانے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے پیمرا کو عدلیہ مخالف بیانات روکنے سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ۔وکیل پیمرا نے بتایا کہ پیمرا نے تمام چینلز کو اس حوالے سے ہدایات جاری کردی ہیں،21 مارچ کو بلائے گئے اجلاس میں عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات سے متعلق ختمی فیصلہ ہو جائے گا۔عدالت نے نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کو درخواست کے ناقابل سماعت ہونے سے متعلق دلائل دینے سے روکتے ہوئے کہا کہ پہلے پیمرا کی رپورٹ آ لینے دیں کہ وہ کیا فیصلہ کرتے ہیں پھر آپکو سنیں گے ۔عدالت نے نوازشریف کے وکیل کو پیمرا کے جواب کے بعد دلائل دینے کی ہدایت کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…