جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

طلال چوہدری پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد نہ ہوسکی، چارج شیٹ وکیل کے حوالے

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پر عدلیہ مخالف بیان بازی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد نہ ہوسکی اور سماعت (آج ) جمعرات تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے توہین عدالت کی سماعت کی۔دوران سماعت وزیر مملکت طلال چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ آج چارج فریم کرنے سے پہلے انہیں سن لیا جائے ۔

سپریم کورٹ کے بہت سے ایسے فیصلے موجود ہیں جس میں عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا جن کا حوالہ دینا ہے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ آپ حوالہ دے دیجئے گا لیکن بعد میں، آج ہم نے آپ پر چارج فریم کرنا ہے، کیس میں پہلے ہی بہت وقت گزر چکا ہے، موخر نہیں کرنا چاہتے۔طلال چوہدری نے کہا کہ اس کیس میں انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں آپ کی شان میں گستاخی کا معاملہ ہے جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ کسی فرد کی شان کا معاملہ نہیں ادارے کا معاملہ ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ کا کیس خراب ہو رہا ہے۔طلال چوہدری کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ساتھی وکیل کے والد کے جنازے میں جانا ہے اس لئے سماعت کل تک کیلئے ملتوی کی جائے۔عدالت نے چارج شیٹ طلال چوہدری کے وکیل کے سپرد کرتے ہوئے سماعت (آج ) جمعرات تک کے لئے ملتوی کردی۔ بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ میں جمہوری،سیاسی ورکر، قانون کا گریجویٹ اور منتخب عوامی نمائندہ ہوں تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔وزیر مملکت نے کہا کہ ہر چیز ریکارڈ پر ہے، حقائق سامنے آئیں گے، ہم نے اداروں کی تکریم کی بات کی ہے، عوام کے ووٹ اور پارلیمنٹ کی عزت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تکریم اور عوام کے ووٹ کی عزت کی باتیں ضرور کی ہیں، اداروں کی توہین کرنا ہمارا مطمع نظر نہیں رہا۔

فیصلوں پر تحفظ تھا اور آج بھی ہے، ہم نے قانونی لڑائی لڑی ہے اور آئندہ بھی لڑتے رہیں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی تھی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر نجکاری دانیال عزیز کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں پر بھی سماعت کی جنہیں بعدازاں ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نہیں سمجھتے جو مواد ہمارے سامنے پیش کیا گیا وہ توہین عدالت سے متعلق ہے، قانون کے مطابق فیصلوں پر تبصرہ ہر آدمی کا حق ہے۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…