ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

طلال چوہدری پر توہین عدالت کیس میں فرد جرم عائد نہ ہوسکی، چارج شیٹ وکیل کے حوالے

datetime 14  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی)وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری پر عدلیہ مخالف بیان بازی پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد نہ ہوسکی اور سماعت (آج ) جمعرات تک کے لئے ملتوی کردی گئی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے توہین عدالت کی سماعت کی۔دوران سماعت وزیر مملکت طلال چوہدری نے عدالت سے استدعا کی کہ آج چارج فریم کرنے سے پہلے انہیں سن لیا جائے ۔

سپریم کورٹ کے بہت سے ایسے فیصلے موجود ہیں جس میں عدالت نے تحمل کا مظاہرہ کیا جن کا حوالہ دینا ہے۔جسٹس اعجاز افضل نے ریمارکس دیے کہ آپ حوالہ دے دیجئے گا لیکن بعد میں، آج ہم نے آپ پر چارج فریم کرنا ہے، کیس میں پہلے ہی بہت وقت گزر چکا ہے، موخر نہیں کرنا چاہتے۔طلال چوہدری نے کہا کہ اس کیس میں انسانی حقوق کا مسئلہ نہیں آپ کی شان میں گستاخی کا معاملہ ہے جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ کسی فرد کی شان کا معاملہ نہیں ادارے کا معاملہ ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ آپ کا کیس خراب ہو رہا ہے۔طلال چوہدری کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ انہیں ساتھی وکیل کے والد کے جنازے میں جانا ہے اس لئے سماعت کل تک کیلئے ملتوی کی جائے۔عدالت نے چارج شیٹ طلال چوہدری کے وکیل کے سپرد کرتے ہوئے سماعت (آج ) جمعرات تک کے لئے ملتوی کردی۔ بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ میں جمہوری،سیاسی ورکر، قانون کا گریجویٹ اور منتخب عوامی نمائندہ ہوں تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔وزیر مملکت نے کہا کہ ہر چیز ریکارڈ پر ہے، حقائق سامنے آئیں گے، ہم نے اداروں کی تکریم کی بات کی ہے، عوام کے ووٹ اور پارلیمنٹ کی عزت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔طلال چوہدری نے کہا کہ پارلیمنٹ کی تکریم اور عوام کے ووٹ کی عزت کی باتیں ضرور کی ہیں، اداروں کی توہین کرنا ہمارا مطمع نظر نہیں رہا۔

فیصلوں پر تحفظ تھا اور آج بھی ہے، ہم نے قانونی لڑائی لڑی ہے اور آئندہ بھی لڑتے رہیں گے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ کے خصوصی بینچ نے وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز پر توہین عدالت کی فرد جرم عائد کی تھی۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بدھ کو سابق وزیراعظم نواز شریف، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق اور وزیر نجکاری دانیال عزیز کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواستوں پر بھی سماعت کی جنہیں بعدازاں ناقابل سماعت قرار دے کر مسترد کردیا گیا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم نہیں سمجھتے جو مواد ہمارے سامنے پیش کیا گیا وہ توہین عدالت سے متعلق ہے، قانون کے مطابق فیصلوں پر تبصرہ ہر آدمی کا حق ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…