ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اپنے ہی گراتے ہیں نشیمین پہ بجلیاں، ن لیگ کے اپنے ہی سینیٹرز نے دھوکہ دیدیا۔۔ایک یا دو نہیں بلکہ پورے گیارہ ،کس کس نے زرداری اور عمران خان کے امیدوار کو سینٹ میں ووٹ دیا۔۔بڑے نام سامنے آگئے

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کسی سے کیا گلہ اپنے ہی گراتے نشیمین پربجلیاں، یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ کس نے کسے ووٹ دیا ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ہمارے اپنے ہی لوگوں نے کوئی گڑ بڑ کی ہے، سینیٹر سردار یعقوب ناصر کا شک درست نکلا، ن لیگ کی خاتون سینیٹر کلثوم پروین نے حکومتی اتحادی امیدوار عثمان کاکڑ کو ووٹ نہ دینے کا اعتراف کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سینیٹ میں

چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کیلئے گزشتہ روز ہونے والے انتخابات میں حکومتی اتحاد کو عبرتناک شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اس کے جیت کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ سینٹ میں چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینٹ کے الیکشن میں شکست کے بعد حکومتی سینیٹر سینیٹرسردار یعقوب ناصر نے کہا کہ ہمارے ساتھ اپنوں نے گڑبڑ کی، سمجھ نہیں آ رہا کہ ہمارے گیارہ ووٹ کہاں گئے ہیں۔ سینٹ میں چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخابات کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولنگ میں ایک دو ووٹ آگے پیچھے ہو جائیں تو وہ سمجھ میں آتا ہے مگر آپ کے گیارہ ووٹ ہی غائب ہو جائیں تو اس موقع پر کیا کہا جا سکتا ہے۔ سردار یعقوب ناصر نے کہا کہ کسی پر شک نہیں کیا جا سکتا یہ تو کوئی نہیں جانتا کہ کس نے کسے ووٹ دیا ہے لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ ہمارے اپنے ہی لوگوں نے کوئی گڑ بڑ کی ہے۔سردار یعقوب ناصر کا اپنے ہی سینیٹرز پر کیا گیا شک بالکل صحیح ثابت ہوا ہے اور اب پاکستان کے موقر قومی اخبار روزنامہ خبریں کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیگ کی خاتون سینیٹر کلثوم پروین نے حکومتی اتحادی امیدوار عثمان کاکڑ کو ووٹ نہ دینے کا اعتراف کر لیاہے۔معروف صحافی نے ٹویٹر پر پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے ن لیگ کی سینیٹر کلثوم پروین کا ویڈیو بیان شیئر کیا ہے جس میں انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین کیلئے

انہوں نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو ووٹ دیا جبکہ عثمان کاکڑ کو ووٹ نہیں دیا اور اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عثمان کاکڑ ن لیگ کے اتحادی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینٹ کیلئے سلیم مانڈوی والا کو ہی ووٹ دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…