جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

’’کچھ لوگوں نے ہم سے وعدہ کر کے بھی ووٹ نہیں دیا‘‘ (ن)لیگ نے چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں شکست کے بعد کیا کام شروع کردیا

datetime 13  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں جو کچھ ہوا اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگوں نے ہم سے وعدہ کر کے بھی ووٹ نہیں دیا، اس معاملے میں اصل کردار ان لوگوں کا ہے جو اس منظر میں نظر نہیں آرہے۔مشاہد اللہ خان نے مزید کہا تحقیقات کر رہے ہیں کہ کس طرح ممکنہ ووٹ ہمارے امیدواروں کو نہیں ملے،

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے ایک اور رہنما میاں جاوید لطیف نے بات کرتے ہوئے کہا کہ چند کمزور لوگ دباؤ برداشت نہ کر سکے اور انہوں نے ووٹ نہیں دیا تاہم اتحادی جماعتوں کے لوگوں نے دباؤ بھی برداشت کیا اور ووٹ دیا۔جاوید لطیف نے کہا کہ نئے پاکستان اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے آج بے نقاب ہوگئے، آنے والے دنوں میں نواز شریف مخالف لوگوں کو اکھٹا کیا جائے گا۔یاد رہے کہ چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے انتخابی عمل میں مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے امیدواروں کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔جب کہ بلوچستان سے مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر کلثوم پروین اعتراف کرچکی ہیں کہ انہوں نے اپنی جماعت کے امیدوار کو ووٹ نہیں دیا۔یاد رہے کہ حکمراں اتحاد کے راجا ظفرالحق نے چیئرمین سینیٹ کے لئے 46 ووٹ حاصل کیے جبکہ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے انتخاب سے قبل 53 ووٹ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے لئے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی سے تعلق رکھنے والے عثمان کاکڑ حکمراں اتحاد کے امیدوار تھے جنہیں 44 ووٹ ملے جب کہ ان کے مقابلے میں اپوزیشن اتحاد کے امیدوار سلیم مانڈوی والا نے 54 ووٹ حاصل کیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…