اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پیپلزپارٹی کی جانب سے رضا ربانی کو چیئرمین سینٹ کا امیدوارنامزد کئے جانے پر ن لیگ سے ڈیل کیا ہوگی؟ ڈپٹی چیئرمین کس کو نامزد کیاجائیگا؟ حیرت انگیز تفصیلات منظر عام پر آگئیں،نوازشریف نے بڑا اعلان کردیا

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف نے چیئرمین سینیٹ کیلئے پیپلز پارٹی کی جانب سے رضا ربانی کو امیدوار نامزد نہ کرنے کی صورت میں (آج)اتوار کو اپنے امیدوار کا نام سامنے لانے کا فیصلہ کیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ (ن) کی جانب سے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے ناموں پر مشاورت کے لیے نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اتحادی جماعتوں کے اجلاس کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں ۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں بلوچستان کےآزاد امیدواروں سے رابطہ ہی نہیں کیا گیا

جبکہ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے امیدواروں کی نامزدگی کے حوالے سے نواز شریف کو اختیار دینے کی تجویز پیش کی۔محمود اچکزئی نے کہا کہ پیپلز پارٹی رضا ربانی کو نامزد نہیں کرتی تو میاں صاحب آپ کی پارٹی سب سے بڑی ہے، پھر مسلم لیگ (ن) کا چیئرمین سینیٹ ہونا چاہیے کیونکہ آپ کی جماعت میں بھی آپ کے بیانیے پر پورا اترنے والے بہت لوگ موجود ہیں۔ذرائع کے مطابق محمود اچکزئی نے نواز شریف سے کہا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے کہ آپ جو فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہو گا جبکہ حاصل بزنجو نے بھی محمود اچکزئی کی تجویز کی تائید کی۔محمود اچکزئی کی تجویز پر نواز شریف نے کہا کہ میں جو بات کرتا ہوں اس سے پیچھے نہیں ہٹتا، اتحادیوں کے سامنے بات کریں گے تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں شریک ایک رہنما نے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے امیدوار کے حوالے سے بلاول بھٹو اور آصف زرداری کی متضاد خواہشات کا بھی ذکر کیا۔ذرائع کے مطابق نواز شریف کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی چیئرمین سینیٹ کے لیے رضا ربانی کو نامزد کرتی ہے تو مجھے قبول ہو گا لیکن اگر پیپلز پارٹی نے رضا ربانی کو نامزد نہ کیا تو ہم اپنے امیدواروں کا اعلان کریں گے۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے اجلاس کے دوران ڈپٹی چیئرمین کا عہدہ اتحادی جماعتوں کو دینے کی تجویز پیش کی جبکہ امیر مقام نے تجویز پیش کی کہ اگر رضا ربانی چیئرمین کے امیدوار نامزد ہوتے ہیں

تو ڈپٹی چئیرمین خیبر پختونخوا سے (ن) لیگ کا ہونا چاہیے۔ذرائع کے مطابق رضا ربانی کے متفقہ امیدوار نہ ہونے پر چیئرمین سینیٹ (ن) لیگ سے نامزد کیے جانے کا امکان ہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کو جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کے ووٹ ملنے کی بھی امید ہے۔خیال رہے کہ نئے چیئرمین سینیٹ کیلئے انتخاب 12 مارچ کو ہو گا جس میں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اپنے اپنے امیدوار لانے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں جبکہ عمران خان نے چیئرمین سینیٹ کے لیے بلوچستان سے نامزد ہونے والے امیدوار کی بھرپور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…