ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

ججز کیخلاف نواز شریف کی احتجاجی تحریک کی صورت میں پاک فوج کیا کریگی ؟سپریم کورٹ کیساتھ کھڑی ہو نگےیا تماشہ دیکھیں گے؟سینئر صحافی کے سوال پر آرمی چیف نے دو ٹوک اعلان کرتے ہوئے اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی سینئر اینکرز، اخبارات کے ایڈیٹروں اور صحافی سے گفتگو سوا تین گھنٹے پر مشتمل تھی اور اس میں ہر قسم کے سوالات ہوئے اور آرمی چیف نے بڑی صاف گوئی سے ہر سوال کا جواب دیا۔ ان کے خلاف بھی بہت سی باتین یعنی اداروں کے بارے، آرمی کے بارے میں بعض دوستوں کی شکایات تھیں۔ انہوں نے ہر شکایت کو غور سے سنا۔

مقامی اخبار کی رپورٹ کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ عام انتخابات سو فیصد ہونگے اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں اور زیادہ سے زیادہ 10، 15دن ٹیکنیکل وجوہ کی بنا پر آگے پیچھے ہو سکتے ہیں۔ ہم آئین کے مطابق چلیں گے۔ ہم آئین کا احترام کرتے ہیں اور سپریم کورٹ کے جو فیصلے ہیں ان کے مطابق چلنا ہمارا فرض ہے۔ بس یہ میں کہہ سکتا ہوں۔ چیف آف آرمی سٹاف کا مجموعی طور پر انداز یہ تھا کہ وہ صحافت پر کسی قسم کی پابندی کو نہیں دیکھتے اور انہوں نے کہا کہ خود ان کے بارے میں اور فوج کے بارے میں بعض باتیں بہت سخت چھپتی ہیں لیکن وہ آزادی صحافت کے بارے میں یہ سمجھتے ہیں اس لئے کہ پاکستان میں اب میڈیا اتنا آزاد ہے کہ اسے روکنا ممکن نہیں ہے۔اخبارات کے ایڈیٹرز اور سینئر ٹی وی اینکر سے نشست کے دوران آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جب فلور سوال و جواب کیلئے اوپن کیا تو اس موقع پر انہوں نے وہاں موجود تمام صحافیوں سے سوال پوچھا کہ آپ میں سے یہاں موجود صحافیوں میں سے سے سینئر صحافی کون ہے ؟اگلی صفوں سے متعدد شرکا نے کہا کہ ضیا شاہد جس پر جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پھر وہی پہلا سوال مجھ سے کریں۔صدر سی پی این ای اور چیف ایڈیٹر روزنامہ خبریں ضیا شاہد نے آرمی چیف سے پوچھا کہ جناب اس وقت ملک میں عجیب صورتحال ہے موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کہہ چکے ہیں

کہ ہم اپنے خلاف ہونے والے عدالتوں کے فیصلے نہیں مانتے جبکہ سابق وزیراعظم جناب نواز شریف اعلان کر چکے ہیں کہ میرے خلاف فیصلہ دینے والے پانچ ججوں کو کٹہرے میں لائیں گے۔ پاک فوج نے دو مواقع پر الگ الگ طرز عمل اختیار کیا۔ جنرل وحید کاکڑ نے اپنے وقت کے صدر غلام اسحاق خان اور وزیراعظم نواز شریف سے زبردستی استعفے لئے اور پھر نئے الیکشن ہوئے،

دوسری مرتبہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سجاد علی شاہ نے فوج سے اپنی حفاظت کیلئے مدد مانگی، فوج الگ رہی کچھ ججوں نے چیف جسٹس کو معزول کر کے گھر بھیج دیا جبکہ صدر فاروق لغاری کو استعفیٰ دینا پڑا اور وزیراعظم نواز شریف کام کرتے رہے اگر موجودہ صورتحال میں اعلیٰ عدالتوں کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک چلتی ہے تو آپ بطور آرمی چیف کیا کرینگے،

ججوں کو کٹہرے میں لانے والوں کی حمایت کرینگے یا سپریم کورٹ کا ساتھ دینگے جس پر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جواب دیا کہ پاک فوج آئین پر عمل کرے گی اور عدالتوں کے فیصلے کی پابندی کرینگے۔



کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…