جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

اگر میر شکیل الرحمان کے رشتہ دار علی جہانگیر صدیقی کو امریکہ کا سفیر لگانا ہے تو پھر کلبھوشن یادیو کو ہی انڈیا میں پاکستان کا سفیر لگا دینا چاہیے کیونکہ۔۔! معروف صحافی کے چونکا دینے والے انکشافات

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر صحافی و تجزیہ کار مبشر لقمان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جہانگیر صدیقی کو اگر امریکہ میں سفیر لگانا ہے تو پھر کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی طرف سے انڈیا میں سفیر لگا دینا چاہیے، اتنا بڑا فیصلہ کرتے ہوئے پاکستان کے مستقبل کو داؤ پر لگاتے ہوئے نہ شاہد خاقان عباسی نے کچھ سوچا اور نہ نواز شریف کو کوئی خیال آیا۔

سینئر صحافی مبشر لقمان نے کہا کہ علی جہانگیر صدیقی اصل میں جے ایس بینک کے مالک جہانگیر صدیقی کا بیٹا ہے اور ایک بڑے میڈیا گروپ رکھنے والے کا داماد بھی ہے۔ جے ایس کمپنی جس میں علی جہانگیر عہدیدار ہیں، سنگین کرپشن کے الزامات میں ملوث ہیں اور بہت سے کیسز بھی ہیں، جہانگیر صدیقی نے ایک اخبار اور ٹی وی کے گروپ کو استعمال کیا اور ایس ایس سی پی کے صدر اور ان کے ممبران کے خلاف استعمال کیا جو غیر قانونی طور پر پہلے ایچ ایس بی سی بینک کو ان کے پاس جانے سے روک رہے تھے، اس وجہ سے چیئرمین ایچ ایس بی سی کو استعفیٰ دے کر پاکستان چھوڑنا پڑا، جے ایس کمپنی کی ذیلی کمپنی سپلٹ انرجی نے جعلی این او سی میں سی این جی سٹیشنز بنائے، جس کی وجہ سے بعد میں ایف آئی اے نے سپلٹ انرجی کے خلاف تیرہ الگ الگ مقدمات درج کیے اور یہ وہی کیس ہے جس میں فواد حسن فواد بھی مطلوب ہیں، جب پاکستان انٹرنیشنل کنٹینر ٹرمینل لمیٹڈ کے شیئر ہولڈر نے اپنے شیئرز کو بیچ کر اس کے قانونی مالک کو دینے پر رضا مندی کا اظہار کیا تو جہانگیر صدیقی نے اپنے شیئرز اور بینک جونیئر سپائر کو بیچ دیے جو خود جہانگیر صدیقی گروپ کے لیے کام کرتے تھے،

جہانگیر صدیقی نے این آئی سی ایل سکینڈل میں بھی اہم کردار ادا کیا جس میں قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوا۔ ان کا نام آئی سی آئی اور ای ایف یو کے انشورنس سکینڈل میں لیا جاتا ہے اور ان سکینڈل کی تحقیقات ہو رہی ہیں، اس موقع پر سینئر صحافی نے کہا کہ شاید یہی وجوہات ہیں کہ علی جہانگیر صدیقی امریکہ میں سفیر تعینات ہونے کے لیے اہلیت رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کا پاکستانی ریاست کے خلاف سب سے بڑا جرم پاکستان کی خارجہ پالیسی کو برباد کرنا ہے،

ایسے شخص کو امریکہ میں سفیر تعینات کیا گیا ہے جو یہاں کرپشن کے کیس میں مطلوب ہے جس کے پاس رتی برابر بھی تجربہ نہیں ہے کہ وہ پاکستان کی نمائندگی کر سکے وہ بھی ان دنوں میں جب پاکستان شدید بحران کا شکار ہے خاص طور پر امریکہ اس پر دباؤ ڈال رہا ہے اور علاقائی صورتحال پاکستان کے لیے موافق نہیں ہے، انڈیا اور افغانستان ایک ہو رہے ہیں ایسے میں علی جہانگیر صدیقی کو سفیر تعینات کرنا بالکل مناسب نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…