پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

کشمالہ طارق نے معروف صحافی مطیع اللہ جان پر حملہ کیوں کروایا؟شرمناک وجوہات سامنے آگئیں

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وفاقی محتسب برائے خواتین کشمالہ طارق کے دفتر میں اہلکاروں نے معروف صحافی مطیع اللہ جان پر حملہ کیا تھا ۔ اس حملے کی وجہ بھی سامنے آگئی ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ مطیع اللہ جان نے دوران انٹرویو کشمالہ طارق سے ایسے سوالات پوچھ لئے تھے جن کے وہ جواب نہیں دے سکیں اور غصے میں آکر انہوں نے مطیع اللہ جان پر حملہ کروادیا۔

کشمالہ طارق کے اس انٹرویو کے دوران مطیع اللہ جان نے ان سے سوال پوچھا تھا کہ آپ کو کس بنیاد پر پاکستان مسلم لیگ ق کی طرف سے پارلیمنٹ میں خواتین کی مخصوص نشست کیلئے منتخب کیا گیا تھا جس کا جواب دیتے ہوئے کشمالہ طارق کا کہنا تھا کہ آپ یہ سوال ان سے پوچھیں جنہوں نے مجھے منتخب کیا تھا۔ مطیع اللہ جان نے سوال پوچھا کہ کیا آپ نے خواتین کی مخصوص نشست کیلئے اپلائی کیا تھا؟کشمالہ کا کہنا تھا کہ ہاں میں نے اپلائی کیا تھا لیکن مجھے کیوں منتخب کیا گیا آپ یہ سوال ق لیگ کی قیادت سے پوچھیں اور اس وقت میاں اظہر ق لیگ کے سربراہ تھے۔ مطیع اللہ جان نے کشمالہ طارق سے سوال کیا کہ آپ وفاقی محتسب برائے خواتین کے عہدہ پر تعینات کی گئیں ہیں کیا آپ بتا سکتی ہیں کہ کس بنیاد پر آپ کو یہ عہدہ دیا گیا جس پر کشمالہ طارق نے ایک بار پھر وہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ سوال وزیراعظم پاکستان سے پوچھیں جنہوں نے مجھے اس عہدے پر تعینات کیا ہے ۔مطیع اللہ جان نے کشمالہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی محتسب برائے خواتین کا عہدہ اس شخص کو دیا جاتا ہے کہ جو شخص ہائیکورٹ کا جج بننے کا اہل ہوتا ہے، کیا آپ اس عہدے پر تعیناتی کا خود کو اہل سمجھتی ہیںجس پر کشمالہ طارق ان کے سوال کا جواب نہ دے سکیں اور ان کے سوالات پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آپ یہ سوال ان لوگوں سے پوچھیں جنہوں نے مجھے تعینات کیا ہے۔

کشمالہ کا مطیع اللہ جان سے کہنا تھا کہ آپ ناراض کرنے والے سوالات کر رہے ہیں۔کشمالہ اور مطیع اللہ جان کے درمیان کیا سوال و جواب ہوئے۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے


اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…