ایلینز سے رابطہ قائم کرنے والا پہلا شخص جو لوگوں کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ’’جارج آدمسکی‘‘ تھا۔ کیلی فورنیا میں پالومر پہاڑ کے دامن میں اس کا ایک چھوٹا سا ریستوران تھا جس کے عقبی حصے میں اس نے ایک چھوٹی سی دوربین لگا رکھی تھی۔ پہاڑ کی چوٹی پر دنیا کی سب سے بڑی دوربین لگی تھی جو کیلی فورنیا اور واشنگٹن کے دو سائنسی تحقیقی اداروں کے استعمال میں تھی۔ آدمسکی اپنے نام کے ساتھ ’’ماؤنٹ پالو مر لیبارٹری کا پروفیسر‘‘ لکھتا تھا۔ اس نے ایک کتاب میں لکھا کہ کیسے قریب ہی واقع صحر ا میں اسے خوش شکل ایلینزملے تھے جن کے لمبے بال تھے۔ ’’اگر میں کچھ بھول نہیں رہا تو انہوں نے سفید قبائیں پہن رکھی تھیں۔‘‘ انہوں نے اسے ایٹمی جنگ کی تباہ کاری سے متعلق متنبہ کیا تھا۔ ان ایلینز کا تعلق وینس سیارے سے تھا۔ ذاتی طو رپر آدمسکی خاصا معقول انسان تھا۔ اڑن طشتریوں کے حوالے سے تحقیق کرنے والے فضائی فوج کے افسر نے اس سے ملاقات کی اور پھر اپنے تاثرات ان الفاظ میں بیان کئے۔’’اس آدمی سے ملنے اور اس کی روداد سننے کے بعد آپ یہ محسوس کئے بغیر نہیں رہتے کہ آپ کو اس پر پورا یقین آگیا ہے۔ شاید اس کا حلیہ بہت متاثر کن تھا۔ اس کا لبا س خستہ مگرصاف ستھرا تھا۔ اس کے بال معمولی سے سفید تھے اور اس کی آنکھوں میں سچائی کی چمک تھی جو مجھے کسی اور شحص میں دکھائی نہیں دی۔‘‘
وقت گزرنے کے ساتھ اس کی شہرت ماند پڑگئی لیکن اس نے اوربھی کتابیں لکھیں اور یوں وہ اڑن طشتریوں کے مظہر پر یقین رکھنے والوں کی برادری میں اہم ترین شخصیت بن گیا۔
موجودہ دو ر میں ایلینز کے ہاتھوں زیادتی کا شکار ہونے کا پہلا واقعہ نیو ہیمپشائر کے ایک جوڑے بیٹی اور بارنی ہل کے ساتھ پیش آیا۔ عورت ایک سماجی کارکن تھی جبکہ مرد ڈاک خانے میں کام کرتا تھا۔ 1961ء میں ایک رات وہ دیر سے گھر لوٹ رہے تھے اور کار میں سفید پہاڑوں ٗ کے راستے سے گزر رہے تھے۔ بیٹی نے ستارے کی طرح چمکتی اڑن طشتری دیکھی جو ان کی کار کا پیچھا کر رہی تھی۔ اس خوف سے کہ یہ شے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائے وہ بڑی شاہراہ سے ایک ذیلی تنگ راستے میں مڑ گئے۔ اس راستے سے وہ معمول سے دو گھنٹے دیر سے گھر پہنچے۔ اس تجربے سے بیٹی کو ایک کتاب پڑھنے کی تحریک ہوئی جس میں بتایا گیاتھا کہ یہ اڑن طشتریاں دوسری دنیاؤں سے آنے والے خلائی جہاز ہیں۔ اس کے مسافر چھوٹے قد کی مخلوق ہوتی ہے جو بعض اوقات انسانوں کو اغواء کرلیتی ہے۔
تھوڑے ہی دنوں بعد بیٹی نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا جس میں اڑن طشتری کے مسافر اسے اور اس کے شوہر کو اغوا کر کے لے جاتے ہیں۔ بار نی نے اپنی بیوی کو یہ خواب اپنے دوستوں ٗ دفتری ساتھیوں اور اڑن طشتریوں پر تحقیق کرنے والوں کو بیان کرتے ہوئے سنا۔ عجیب بات یہ تھی کہ بیٹی نے شوہر سے اس خواب کا کوئی تذکرہ نہیں کیا۔ اس واقعہ سے کوئی ہفتہ بھر بعد ان دنوں نے لوگوں کو بتانا شروع کیا کہ انہوں نے خلائی جہازسے باہر باوردی مخلوق دیکھی تھی۔



















































