جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

ہر تمباکو نوش کی موت ،سات ہزار ڈالر کا فائدہ

datetime 22  فروری‬‮  2016 |

لندن (نیوزڈیسک )دنیا بھر میں ہر سال تمباکو نوشی اور اس سے جڑی بیماریوں کے باعث جو چھ ملین سے زائد انسان ہلاک ہو جاتے ہیں، ان میں سے ہر ایک اوسطا عالمی ٹوبیکو انڈسٹری کو سات ہزار امریکی ڈالر کے برابر فائدہ پہنچاتا ہے۔برطانوی میڈیاکی رپورٹوں کے مطابق یہ بات بین الاقوامی سطح پر انسانی صحت کے تحفظ کے لیے کوشاں اور پھیپھڑوں کی بیماریوں کے خلاف سرگرم تنظیم ورلڈ لَنگ فاونڈیشن World Lung Foundation کی طرف سے بتائی گئی ہے۔WLFنامی اس تنظیم کے مطابق 2014 میں دنیا بھر میں 5.8 ارب سے زائد سگریٹ پیے گئے۔ اس سے ایک سال پہلے 2013 میں بھی یہ تعداد قریب اتنی ہی رہی تھی۔ مجموعی طور پر دنیا کے محض چند ملکوں میں اگر تمباکو نوشی کے رجحان میں زیادہ عوامی شعور کے نتیجے میں کمی ہوئی ہے تو آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں یہ جان لیوا رجحان مسلسل زیادہ ہو رہا ہے۔ڈبلیو ایل ایف اور امریکی کینسر سوسائٹی کی طرف سے تمباکو نوشی اور اس کے اثرات کے حوالے سے ہر سال جو عالمی ’ٹوبیکو اٹلس‘ تیار کی جاتی ہے، اس کے تازہ ترین ایڈیشن میں شامل تفصیلی اعداد و شمار سال 2013ءکا احاطہ کرتے ہیں۔نئی گلوبل ٹوبیکو اٹلس کے مطابق 2013ء میں تمباکو کی عالمی صنعت کو مجموعی طور پر 44 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا۔ اسی دوران تمباکو نوشی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے ہاتھوں دنیا بھر میں 6.3 ملین سے زائد انسان موت کے منہ میں چلے گئے۔ان اعداد و شمار کے مطابق اس طرح پوری دنیا میں سگریٹ نوشی یا دوسری شکلوں میں تمباکو کی دیگر مصنوعات کے استعمال کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں کے ہاتھوں مرنے والا ہر انسان تمباکو کی عالمی صنعت کے لیے سات ہزار امریکی ڈالر کے برابر خالص منافع کا سبب بنا۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر سگریٹ نوشی اور اس کے اثرات کا موجودہ رجحان جاری رہا تو اس صدی کے آخر تک تمباکو کے فعال یا غیر فعال استعمال کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے انسانوں کی کل تعداد ایک ارب تک پہنچ جائے گی۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے ملک چین میں تمباکو نوشی کا رجحان اتنا زیادہ ہو چکا ہے کہ وہاں پندرہ برس سے زائد عمر کا ہر شہری اوسطا سال بھر میں سوا دو ہزار سگریٹ پیتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…