’’ہاں مجھے تکلیف پہنچتی ہے‘ رات میں جب میں سوتا ہوں تو میرا انگ انگ تھک چکا ہوتا ہے مگر اس تمام تکلیف کے باوجود میری روح ابھی تک نہیں تھکی کیونکہ میں اپنی تمام خوشیاں اور سکون ان بچوں پر وار چکا ہوں جو غریب ہیں اورسکول جانے سے قاصر ہیں۔ مجھے اس سے زیادہ تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب غریب بچے سکول نہیں جا پاتے‘ میں ان کے دکھ کو کم کرنا چاہتا ہوں‘‘۔ یہ الفاظ اس عظیم انسان کے ہیں جس کا نام’’بے فنگ لی‘‘تھا ۔ چین میں پیدا ہونے والے اس غریب نے بہت سے امیروں کے سر جھکا دیئے۔

’’بے فنگ لی‘‘نے 1912میں آنکھ کھولی تو غربت درو دیوار سے ٹپک رہی تھی‘ بڑا ہوا تو تین پہیوں والی سائیکل مقدر ٹھہری۔ ان پڑھ ہونے کا دکھ ساتھ لے کر جینے والے’’بے فنگ لی‘‘نے زندگی میں وہ کر دکھایا جو شائد ایک رکشا ڈرائیور کے لئے ناممکن تو کیا اس کی سوچ میں بھی نہیں ہو گا۔ زندگی کا پہیہ چلتا رہا اور فیگ لی نے زندگی کی 74بہاریں گزار دیں۔ سال تھا 1987کا گھر واپسی ہوئی تو بچوں نے اصرار کیا کہ اب آپ گھر پہ رہیں ۔ 5000یوان کی جمع پونچی کو اپنی ذات پر لگانے کے خواب دیکھنے والا’’بے فنگ لی‘‘ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر میں پہلا دن بھی نہ گزار سکا کیونکہ شائد قدرت نے اس سے کوئی عظیم کام کروانا تھا اور اسے یہ منظور نہ تھا کہ’’بے فنگ لی‘‘بے کار کی زندگی گزارے۔ ہوا کچھ ہوں کہ ریٹائرمنٹ کے پہلے دن ہی اسے وقت گزارنا اتنا دشوار گزرا کہ وہ گھر سے نکل کر باہر مارکیٹ تک چلا گیا۔ وہ ایک تھڑے پر بیٹھا تھا کہ اس کی نظر ایک 6سال کے بچے پر پڑی جو مارکیٹ میں خریداری کرنے والے خواتین و حضرات کا سامان اٹھانے پر اصرار کرتااگر کوئی اس کی بات مان لیتا تو اجرت میں دی جانے والی رقم بغیر گنے اپنی جیب میں رکھ لیتااورخوشی خوشی سلام کرتے ہوئے وہ سر آسمان کی طرف اُٹھاتا اور کچھ منہ ہی منہ میں بولتا جیسے وہ دعا کر رہا ہو‘ دن ڈھلتا گیا ۔ کچھ وقت کے بعد اس نے دیکھا کہ وہ بچہ تھکن سے چور ہو چکا ہے‘ وہ قریب ہی پڑے کوڑے کے ڈھیر پر نظریں گاڑے کھڑا ہے اور پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے ’’بے فنگ لی‘‘کی زندگی میں ہل چل مچا دی وہ بچہ کوڑے کے ڈھیر سے روٹی کا ایک ٹکڑا ہاتھ میں لیئے کھانے کے لئے صاف کر رہا تھا۔ دکھ اور افسوس کے عالم میں’’بے فنگ لی‘‘نے بچے کو آواز دی‘ بچہ پاس آیا اور اس نے پوچھا ۔ ہاں کیا بات ہے ؟ ’’بے فنگ لی‘‘نے جواب دینے کے بجائے سوال کیا۔ کوڑے سے اٹھا کر کیوں کھا رہے ہو ؟بیمار ہو جاؤ گے۔ بچے نے جواب دیا ۔ میں اگر یہاں سے اُٹھا کر نہ کھاؤ تو میری بہنیں بھوکی رہ جائیں گی۔’’بے فنگ لی‘‘نے بچے کو ساتھ لیا اور اس کے گھر جانے کا اصرار کرنے لگا۔ بچہ بھی خوشی خوشی ساتھ چل پڑاکہ شائد کچھ پیسے اور مل جائیں گے ۔ گھر کیا تھا گندگی سے اٹی گلیاں اور در و دیوار غریب اور بے چارگی کا رونا رو رہے تھے۔ گندے چیٹھڑوں میں ملبوس 7یا 8سال کی دو بچیاں بھائی کو دیکھ کر اس کے گلے لگ گئیں مگر جیسے ہی ان کی نظر’’بے فنگ لی‘‘پر پڑی تو وہ سہم گئیں ۔’’بے فنگ لی‘‘کو بچوں کی حالت دیکھ کر رونا آگیا وہ فیصلہ کر چکا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے۔ وہ گھر لوٹا اور اپنی تمام زندگی کی جمع پونچی اٹھائی اور اس نے تینوں بچوں کو ساتھ لیا‘ مقامی یتیم خانے پہنچا اور انتظامیہ سے کہا ’’اب ان تینوں بچوں کی تعلیم اور خوراک کا انتظام کیا جائے‘‘۔
ان تین بچوں کی کفالت 74سالہ نوجوان’’بے فنگ لی‘‘کے لئے آخری امتحان نہ تھا بلکہ یہ ابتداء تھی ایک ایسی جدوجہد کی جو آنے والے 20سالوں کے 365دن تک جاری رہی۔ چاہے برف پڑی ہو یا پھر ڈگری سنٹی گریڈ کی گرمی‘ وہ صبح 6بچے تین پہیوں والی سائیکل کو چلانا شروع کرتا اور یہ کام رات کے بجے تک جاری رہتا۔ 20سال تک ایک ایک یوان کر کے بچا بچوں کو سکول داخل کروانا ان خرچ اُٹھانا کوئی آسان کام نہیں۔’’بے فنگ لی‘‘دوپہر کاکھاناپانی کے ساتھ دو عدد بن تھے اگر زیادہ عیاشی کا دل ہوتا تو پانی میں ’’سوس‘‘ملا لیتا۔ رات کا کھانے میں ایک انڈا یا پھر گوشت کا ٹکڑا 20سال تک اس کی خوراک رہی۔ اس نے ان بیس سالوں میں کبھی کپڑے خرید کر نہیں پہنے‘ کوڑے یا دوسروں کے پھینکے ہوئے کپڑے پہن کر گزارہ کیا۔ وہ صبح سویرے گھر سے نکلتا اور پورا دن سائیکل کے پیڈل چلانے کے بعد صرف 20سے 30یوان اس 74سال سے زائد کا جوان کماتا اور گھر واپسی کی طرف گامزن ہو جاتا۔ روزانہ کی کمائی سے کچھ پیسے وہ گھر کے کرائے اور دو بن اور ایک گوشت کے ٹکڑے یا انڈے کے لئے رکھ لیتا باقی یتیم خانے میں جمع کروا دیتا۔ مگر پھر اس کے دل میں یہ خیال آیا کہ اتنے پیسوں سے کام نہیں چلے گا تو وہ زیادہ پیسہ اکھٹا کرنے کی خاطر ’’تھیاجن ‘‘کے ریلوے سٹیشن کے نزدیک منتقل ہو گیا تاکہ 24گھنٹے کام کر کے مزید کچھ پیسے کما سکے۔ 20سال تک چندہ دینے کے باوجود ایک دن میں کسی چیز کا تقاضا نہ کیا اور نہ ہی وہ یہ جانتا تھا کہ اس کے پیسے سے کون سے بچے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔
ایک دفعہ کھانے پر کوڑے سے بن اُٹھا کر کھانے پر جھگڑا ہوا‘ انہوں نے بن اُٹھایا اور کہا’’تمہیں پتا ہے یہ بن کسانوں کی محنت کا نتیجہ ہے‘ لوگ اسے پھینک دیتے ہیں ‘میں اسے اُٹھا کر کھا لیتاہوں‘ کیا اس سے خوراک کے زیاں میں کمی نہیں آتی؟‘‘۔

’’بے فنگ لی‘‘کی بیٹی کا کہنا ہے کہ میرے والد نے تمام زندگی تکلیف سہی‘ کھانے ہو یا پھر پہننا انہوں نے ہر چیز کو بار بار استعمال کیا۔ جب ان کے کپڑے پھٹ جاتے تھے اور ان کے لئے نئے خریدے جاتے تو وہ انہیں نہیں پہنتے تھے بلکہ غصہ بھی کرتے تھے‘ ان کے کپڑے‘ بوٹ اور ٹوپیاں ایک دوسرے سے نہیں ملتی تھیں انہیں دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ وہ گداگر ہیں‘‘۔ مگر میں اپنے بابا سے بہت پیار کرتی ہوں اور مجھے بابا پہ فخر ہے۔
کہا جاتا ہے کہ’’بے فنگ لی‘‘نے اتنی بار پیڈل چلایا ہے کہ اگر اس فاصلے کو یکجا کیا جائے تو خطہ استواء کا اٹھارہ دفعہ چکر لگایا جا سکتا ہے۔ کچھ لوگوں سے یہ کوشش کی کہ ان بچوں کو ڈھونڈا جائے جن کی کفالت ’’بے فنگ لی‘‘نے کی ہو مگر صرف ایک تصویر مل سکی ہے جس میں وہ بچوں کے ساتھ ہے۔ ان سے کئی بار پوچھا گیا کہ وہ ان بچوں سے کیا چاہتا ہے تو اس کا جواب ہوتا تھا ’’میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ بچے محنت کریں‘ اچھی نوکریاں کریں‘ ایک اچھے انسان کے روپ میں اپنے ملک کی خدمت کریں‘ اس کے علاوہ میری کوئی خواہش نہیں ‘‘۔
’’میں نے ایک بار پھر اپنا مشن پورا کر دیا ہے‘‘یہ وہ الفاظ ہوتے تھے جو ہمیشہ اس کے زبان پر ہوتے تھے جب بھی وہ یتیم خانے کو پیسے دیتا ‘ وہ کبھی نہیں بھولا کہ اس نے پیسے دینے ہیں۔ ایک یتیم خانے کے کارکن نے دکھ بھرے لہجے سے کہا اس کی آنکھوں میں آنسو تھے اورہ وہ بچوں کی طرح رو رہا تھا۔
90سال کی عمر میں اس نے آخری بارقریباً 8000پاکستانی روپے دیئے جو ایک صاف ستھرے باکس میں بند تھے جو اس نے “Yao Hua”نامی ایک یتیم خانے کو دیئے۔ دکھ سے بھری ہوئی رندھی آواز میں’’بے فنگ لی‘‘نے کہا’’میں اب بہت بوڑھا ہو گیا ہوں اور تین پہیوں والا رکشا نہیں چلا سکتا‘ میں اب مزید چندہ نہیں دے سکتا‘ یہ میری طرف سے آخری چندہ تصور کیا جائے’’سکول کے تمام ٹیچرز زار و قطار رونے لگے۔
2005میں باسی خوراک اور زندگی کی سختیاں سہتے سہتے 93سالہ ’’بے فنگ لی‘‘کو جگر کے کینسر میں مبتلا کر دیا۔ شائد کنفیوشس نے ’’بے فنگ لی‘‘ کے بارے میں ہی کہا تھا’’عام آدمی زندگی میں سکون ڈھونڈتا ہے جبکہ امیر آدمی ہمیشہ فائدے کو سوچتا ہے‘‘۔ 20سال تک دوسروں کے لئے جینے والے’’بے فنگ لی‘‘نے اپنے علاقے میں مختلف یتیم خانوں کو ساڑھے تین لاکھ یوان (61لاکھ پاکستانی روپے(کا چندہ دیا جس سے 300سے زائد یتیم بچوں کی کفالت ہو سکی۔ مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ ’’بے فنگ لی‘‘ نے انصار اور مہاجرین کے مواخات مدینہ سنا یا پڑھا ہو مگر یہ بات ثابت ہے کہ ’’بے فنگ لی‘‘ کی کوشش اور جذبہ یہی ظاہر کرتا ہے کہ دونوں میں فرق مسلم اور غیر مسلم کا ہے۔ خود غریبی میں زندگی گزاری مگر اپنی کمائی کو دوسروں پر لٹا دیا۔ شائد’’بے فنگ لی‘‘ کے بارے میں ہی کسی نے کہا تھا کہ’’عام آدمی کی طاقت کو کبھی بھی کمتریا کمزور نہیں سمجھنا چاہیے‘‘ ۔یہ عظیم انسان 23ستمبر 2005کو اس دنیا سے گزر گیا۔



















































