پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

روم کی اس معروف ترین عمارت کا نام ’کلوسئیم ‘ہے، جانتے ہیں اس عمارت کا رنگ پاکستان کے خلاف احتجاج کیلئے لال کیا گیا ہے،کس چیز پر احتجاج کیا جا رہا ہے؟جان کر ہر پاکستانی مسلمان کا خون کھول اٹھے گا

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

روم(مانیٹرنگ ڈیسک)اٹلی کے دارالحکومت روم کی قدیم ترین عمارت کلوسئیم کو پاکستان کے خلاف احتجاج کیلئے لال رنگ دے دیا گیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کلوسئیم نامی عمارت کو لال رنگ دینے کا مقصد پاکستان کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔ یہ احتجاج پاکستان کے ’توہین رسالت قانون‘ کے خلاف کیا گیا، جس کے متعلق دنیا میں پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے

کہ اس قانون کے تحت پاکستان میں مسیحی برادری کے افراد کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور اس حوالے سے آسیہ بی بی کی مثال پیش کی جارہی ہے۔ہفتے کی رات جب یورپ میں ویک اینڈ شروع ہو چکا تھا اس وقت کلوسئیم کی عمارت خون آلود رنگ میں نہا دی گئی اور سینکڑوں افراد اس کے گرد جمع ہو گئے۔ اس موقع پر پاکستان میںتوہین رسالتؐ کے جرم میں قید آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح اور بیٹی نے کلوسئیم کی عمارت کے گرد جمع ہونے والے افراد سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان اور توہین رسالتؐ اور توہین مذہب قانون کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے ہوئے خطاب کیا۔ گستاخ آسیہ بی بی کے شوہر عاشق مسیح کا کہنا تھا کہ ”میری بیوی بے گناہ ہے، اس نے توہین مذہب نہیں کی،یہ صرف مسیحیوں کے خلاف نفرت کا شاخسانہ ہے جنہیں وہاں (پاکستان میں)ناپاک سمجھا جاتا ہے۔“ جب عاشق مسیح اور اس کی بیٹی وہاں پہنچے تو پوپ فرانسس نے ان کا استقبال کیا اور عاشق کی بیٹی سے مخاطب ہو کر کہا کہ ”مجھے تمہاری ماں کی بہت فکر رہتی ہے اور میں اس کے لیے دعا کرتا ہوں۔“واضح رہے کہ آسیہ بی بی وہی غیر مسلم پاکستانی خاتون ہے جس کے مقدمے پر  سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے توہین رسالتؐ کے قانون کو کالا قانون قرار دیا تھا اور پھر سلمان تاثیر کے ایک حفاظتی گارڈ نے توہین رسالتؐ کے قانون کو کالا قانون قرار دینے کی وجہ سے ان کو

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک ہوٹل سے کھانا کھا کر باہر نکلتے ہوئے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ سلمان تاثیر کو ہلاک کرنے والے ان کے پولیس کے دستے میں شامل حفاظتی گارڈ کا نام ممتاز قادری تھا۔ ممتاز قادری کو بعد ازاں مقدمہ کے بعد سزائےموت سنائی گئی اور اڈیالہ جیل میں ان کی سزائے موت پر عمل کرتے ہوئے انہیں پھانسی دیدی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…