جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی 90 فیصد نیک مسلمان خواتین عبایہ نہیں پہنتیں،سعودی عالم

datetime 11  فروری‬‮  2018 |

ریاض(این این آئی)سعودی عرب کے ایک مذہبی عالم نے کہا ہے کہ سعودی خواتین کو عوامی مقامات پر عبایہ پہننے کی ضرورت نہیں ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب کی کونسل آف سینئیر سکالرز کے رکن شیخ عبداللہ الا مطلق نے کہا کہ خواتین کو اعتدال والے لباس پہننے چاہییں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عبایہ پہنیں۔شیخ مطلق نے کہاکہ دنیا کی 90 فیصد سے زیادہ نیک مسلمان خواتین عبایہ نہیں پہنتی ہیں چنانچہ ہمیں

لوگوں کو عبایہ پہننے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے۔شیخ مطلق کی یہ مداخلت اس اصلاحی منصوبے کا حصہ ہے جو ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے سعودی سماج کو جدید بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ شہزادہ محمد بن سلمان نے ویڑن پروگرام 2030 کے ساتھ ملک کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا ہے۔اس منصوبے کے تحت سعودی خواتین کو مزید آزادی دینا اور ان پر ستمبر سنہ 2017 سے گاڑی چلانے پر عائد پابندی کا خاتمہ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…