ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قطری شہزادے شکار کی آڑ میں پاکستان میں کون سے افسوسناک کام کرتے رہے؟ جب پاکستان آتے تھے تو ان کے ساتھ کیا کچھ ہوتا تھا اور واپسی پر ۔۔۔! حیرت انگیزانکشافات

datetime 10  فروری‬‮  2018 |

کراچی(نیوزڈیسک) ملک میں شکار کیلئے آنے والے خلیجی معززین کی گاڑیوں کی آڑ میں قیمتی گاڑیاں لانے اور کروڑوں روپے کی کسٹم ڈیوٹی چرانے کا انکشاف ہوا ہے۔کسٹمز ذرائع کے مطابق ستمبر 2016 میں ایک قطری شہزادے کی شکاری پارٹی کے ہمراہ 22 قیمتی گاڑیاں تین ماہ کے خصوصی اجازت نامے پر پاکستان لائی گئیں۔2017 ماڈل کی ان گاڑیوں میں مرسیڈیز، ٹویوٹا لینڈ کروز، وی ایٹ، اور رینج روور چیپیں شامل ہیں۔

اجازت نامے کی مدت ختم ہونے کے باوجود یہ گاڑیاں واپس نہیں گئیں بلکہ پاکستان میں فروخت کردی گئیں۔ذرائع نے بتایا کہ ان نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو خریدنے والوں میں ملک کی اعلیٰ شخصیات شامل ہیں جو ملک بھر میں قطر کی ہی نمبر پلیٹ کے ساتھ سڑکوں پر چل رہی ہیں۔ذرائع کے مطابق جب کسٹمز حکام نے کراچی میں قطری نمبر پلیٹ لگی تین نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کو پکڑا تو انہیں اعلیٰ حکومتی اور سرکاری شخصیات کے زبردست دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔کسٹم حکام نے پکڑی گئی گاڑیاں تو قبضے میں رکھیں تاہم ملزمان کو چھوڑنا پڑا ٗدباؤ اس قدر شدید تھا کہ ملزمان کے شناختی کارڈ اور دیگر تفصیلات بھی لینے سے روک دیا گیا۔کسٹمز ذرائع نے بتایا کہ قطری شہزادے کے ہمراہ لائی گئیں 22 میں سے تین گاڑیاں پکڑی گئی ہیں، تین گاڑیاں لاہور میں فروخت ہوئیں جبکہ باقی گاڑیاں کراچی ڈیفنس کے علاقے گزری لین کے ایک بنگلے میں کھڑی ہیں۔پانچ فروری کو پکڑی گئی تین گاڑیوں کا مقدمہ درج نہیں کیا جاسکا ٗکسٹمز ترجمان کا موقف ہے کہ گاڑیوں کے بارے میں وزات خارجہ کو خط لکھ کر تفصیلات معلوم کی جارہی ہیں۔چند دن قبل فلپائین میں بھی بڑی تعداد میں اسمگل گاڑیاں پکڑی گئیں تھیں اور اسمگلنگ کی حوصلہ شکنی کیلئے تمام قیمتی گاڑیاں بلڈوزر سے تباہ کردی گئیں۔کسٹمز ذرائع نے بتایا کہ پاکستان سینکڑوں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں اعلیٰ حکام سرکاری اداروں، ارکان اسمبلی اور حکومتی و سیا سی رہنماؤں کے زیر استعمال ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…