منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا سکینڈل، اہم یورپی ملک سے آنے والا کنٹینر پکڑا گیا، کنٹینر میں کیا سمگل کیا جا رہا تھا؟ چونکا دینے والے انکشافات

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کسٹم حکام نے پولینڈ سے پشاور درآمد ہونے والا خطرناک کیمیکل جو ہیروئن اور دھماکہ خیزمواد میں استعمال ہوتا ہے کی بڑی کھیپ اپنے قبضے میں کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق ڈائریکٹر جنرل کسٹم انٹیلی جنس شوکت علی کو اسلام آباد میں ایک رپورٹ بھیجی گئی جس کے مطابق کسٹم حکام نے پاکستان کی تاریخ کا ایک بڑا سکینڈل پکڑا ہے اور اس میں ہیروئن اوردھماکہ خیز مواد میں استعمال ہونے والا پندرہ ہزار پانچ سو بیس لیٹر خطرناک کیمیکل برآمد کر لیا ہے۔

کسٹم حکام نے پولینڈ سے پشاور درآمد ہونے والی ہیروئن اور دھماکہ خیز مواد میں استعمال ہونے والے خطرناک کیمیکل کی ایک بڑی کھیپ اپنے قبضہ میں لے لی ہے۔ کنٹینر میں درآمد ہونے والے 15520 لیٹرکیمیکل (acetic anhydride)کی مالیت 1.5ملین ڈالر بنتی ہے، کراچی کسٹم حکام نے درآمدی اشیاء کی سخت مانیٹرنگ کے موقع پر اس کنٹینر کو اس وقت اپنے قبضے میں لے لیا جب اس کے بل پر پی سی ٹی کوڈ نہیں تھا اور اس پر موجود پتہ بھی سادہ سا تھا، اس کنٹینر کو 24 جنوری کو آر اینڈ ڈی سیکشن کے ذریعے سسٹم میں بلاک کیا گیا اور 31 جنوری کو ٹرمینل آپریٹرز اور دیگر متعلقہ افرادکی موجودگی میں چیف کلکٹر عبدالرشید شیخ نے دوسرے سینئر افسران کے ساتھ کنٹینر کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ اس کنٹینر میں زہریلا کیمیکل ہے جو پشاور بھجوایا جا رہا تھا۔ چیف کلکٹر نے ذمہ داروں کو ہدایت کی ہے کہ کنٹینر کا پتہ لگانے، ملوث افراد کا سراغ لگانے اور گرفتار کرنے کے لیے جدید طریقے استعمال کیے جائیں، واضح رہے کہ زہریلا کیمیکل (acetic anhydride) صرف انہی صنعتی صارفین کو درآمد کرنے کی اجازت ہے جن کو اسے درآمد کرنے کا اختیار دیا گیا ہے اور اس زہریلے کیمیکل کی پاکستان درآمد امپورٹ پالیسی آرڈر 2016ء کی خلاف ورزی ہے، یہ کیمیکل ہیروئن اور دھماکہ خیز مواد کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے، اس بارے میں پورٹ قاسم انتظامیہ مزید تفتیش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…