منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بچے کے ساتھ مبینہ زیادتی کے مجرم بزرگ ملزم کی ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال میں عبرتناک موت، ڈاکٹرزحالت بگڑنے پر بیڈ سے الگ نہ کرسکے

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

چکوال صاین این آئی) ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چکوال میں سب جیل چکوال کا سپاہی 80سالہ بزرگ ملزم کو بیڈ کیساتھ ہتھکڑی لگا غائب ہوگیا اس دوران بزرگ کی حالت غیر ہوئی اور ڈاکٹر نے ملزم کو آئی سی یو منتقل کرنے کا کہا مگر چونکہ سپاہی غائب تھا، بزرگ ہتھکڑی لگے بیڈ پر ہی دم توڑ گیا۔ قصبہ جوا مائر کے محمد عثمان نے بتایا کہ بزرگ محمد منیر ولد بوٹا کو صدر

پولیس چکوال نے بچے کیساتھ زیادتی کے جرم میں گرفتار کر رکھا تھا اور بزرگ ملزم گزشتہ آٹھ ماہ سے سب جیل چکوال میں بند تھا کہ ابھی ڈی این اے کی رپورٹ لاہور سے جو کہ 21 دنوں میں آنی تھی ابھی تک نہیں آئی تھی۔ محمد عثمان نے بتایا کہ ہفتے کے روز ہم نے سپرنٹنڈنٹ سب جیل چکوال کو بتایا کہ محمد منیر کی حالت تشویشناک ہے لہٰذا انہیں ہسپتال منتقل کیا جائے۔ جیلر نے یقین دلایا کہ منیر کو آج منتقل کر دیا جائے گا۔ ہفتے کی سہ پہر کو سپاہی رضا محمد منیر کولیکر ہسپتال آیا، ڈاکٹر نے ابتدائی طبی امداد دی اور اس دوران رضا سپاہی اپنے کام کے سلسلے میں بزرگ کو ہتھکڑی لگا کر بیڈ کے ساتھ باندھ کر دلا چلا گیا۔ محمد منیر کی حالت غیر ہوئی تو ڈاکٹر نے اسے فوری طور پر آئی سی یو میں منتقل کرنے کا کہا مگر چونکہ بیڈ پر ہتھکڑی اور تالا لگا تھا اور سپاہی غائب تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے بزرگ نے ہتھکڑی لگے بیڈ پر جان دیدی۔محمد منیر کے لواحقین سراپا احتجاج بن گئے اور انہوں نے سپرنٹنڈنٹ جیل اور ڈی پی او چکوال سے مطالبہ کیا ہے کہ غفلت اور لاپرواہی برتنے والے سب جیل چکوال کے سپاہی کیخلا ف سخت کارروائی کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…