منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بچی کو کیوں اپنے قریب کیا؟تقریر کے دوران معصوم بچی کے ساتھ مشکوک حرکات کی ویڈیو سوشل میڈیاپر وائرل ہونے کے بعد ن لیگ کے سینیٹر نثار محمدکا حیرت انگیز موقف سامنے آگیا

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

لاہور( این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر نثار محمد نے سوشل میڈیا پر اپنے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو پر عوام کے شدید غم و غصے کے اظہار پر وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے بچی کو اپنی بیٹی سمجھ کر خود سے قریب کیا تھا۔فیس بک کے ایک پیچ پر سینئرقانون ساز کے حوالے سے جاری ہونے والی ایک ویڈیو پرسوشل میڈیا میں غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا۔سینیٹر نے اپنے فیس بک پیج پر ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ جب احتجاجی مظاہرے میں پہنچے

تو وہاں بچی اسٹیج پر خطاب کر رہی تھی۔انہوں نے دعوی کیا کہ لڑکی اور ان کی 4 بہنوں کی جانب سے اپنے بھائی کی جدائی پر کی گئی تقریر سے وہاں موجود افراد پر گہرا اثر پڑا تھا جبکہ چند افراد جذبات میں رونے بھی لگے تھے۔انہوں نے بتایا کہ لڑکی کی تقریر کے بعد خود خطاب کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کو اپنے ساتھ اسٹیج پر کھڑے ہونے کے لیے بلایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ بچی کی تقریر پر میں خود اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکا تھا جس کی وجہ سے مجھے تقریر کرنے میں دشواری ہوئی جس کے بعد میں نے بیٹھ کر تقریر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔سینیٹر نثار محمد نے تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کس قسم کے لوگ ہیں، یہ انسان نہیں حیوان ہیں۔فیس بک پر لوگوں کی جانب سے واقعے کا غلط مطلب نکالنے پر انہوں نے سوشل میڈیا صارفین کی ذہنیت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور میڈیا کے حوالے سے کہا کہ اس واقعے کو ریٹنگز کے لیے استعمال کیا گیا۔خیال رہے کہ رواں ہفتے سوشل میڈیا میں جاری سینیٹر کی ویڈیو کو کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ میں جعلی مقابلے میں ماورائے قانون قتل کیے گئے وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نقیب اللہ محسود کے حوالے سے احتجاجی مظاہرے میں تقریر کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی جو وہاں پہنچنے والے سینیٹ وفد کا حصہ تھے۔سینیٹ وفد کی سربراہی نسرین جلیل کررہی تھیں جس میں سینیٹر فرحت اللہ بابر

اور شاہی سید سمیت دیگر شامل تھے۔وفد نے سہراب گوٹھ میں جرگے کے منتظمین سے ملاقات کی اور وہاں پر موجود جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق اور سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی سے بھی ملاقات کی۔خیال رہے کہ وہاں پر موجود سینیٹرز اور منتظمین سمیت کسی بھی فرد کی جانب سے سینیٹر کی تقریر کے دوران بظاہر نامناسب رویے پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا تاہم سوشل میڈیا میں غصے کا اظہار کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…