ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

رسول کریمﷺ اور حضرت ام حبیبہؓ کا نکاح ہوا تو ایک عیسائی بادشاہ نے حضرت امہ حبیبہؓ سے انکی رضامندی کیوں طلب کی؟ آپ بھی جانئے

datetime 19  اپریل‬‮  2019 |

کفار مکہ کے مظالم کے بعد جب عبیداللہ بن جحش اور ان کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ بنت ابوسفیان نے بھی حبشہ ہجرت کی۔اس وقت اصمحہ النجاشی بادشاہ تھا ۔ نجاشی نے مسلمانوں کے ساتھ بڑا اچھا سلوک کیا حالانکہ قریش نے شاہ نجاشی کے پاس ایک وفد بھیجا کہ انکے مجرموں انکے حوالے کردیا جائے ۔یہ لوگ حبشہ پہنچے توپہلے تمام پادریوں سے ملے اور تحفے وتحائف پیش کیے اور مقصد کی تکمیل کے لیے ان کوہموار کر لیا لیکن شاہ حبشہ نے

عدل سے کام لیا اور مسلمانوں کو واپس نہیں کیا ۔مستند روایت ہے کہ حبشہ پہنچ کر عبیداللہ مرتد ہو کرنصرانی ہو گئے۔ حضرت ام حبیبہؓ اسلام پر قائم رہیں تو عبیداللہ نے انھیں چھوڑ دیا۔ ۷ھ میں سرکار دوجہاں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سےنکاح کا ارادہ کیااور حضرت عمرو بن امیہ ضمریؒ کوپیام دے کر حبشہ روانہ فرمایا۔شاہ حبشہ نجاشی نے یہ پیام سنا تو اس نے کہا کہ وہ پہلے حضرت ام حبیبہؓ کی رضامندی معلوم کرے گا کیونکہ یہ اسکے عدل کا تقاضا ہے ۔ لہذااس نے اپنی باندی ابرہہ کے ذریعے سے حضرت ام حبیبہؓ کی مرضی معلوم کی اور نکاح کی اجازت دی ۔ پھر حضرت جعفر بن ابوطالبؓ اور دیگر مہاجرین حبشہ کو جمع کر کے آپؐ سے ان کا نکاح پڑھایاگیا۔ آپؐ کی طرف سے چا ر سو دینار بطور مہربھی ادا کیے۔ حضرت ام حبیبہؓ نے حضرت خالد بن سعید بن عاصؓ کو اپنا وکیل مقررکیا، انھوں ہی نے دلہن کی طرف سے قبولیت کے کلمات کہے اور مہر کی رقم وصول کی۔طبرانی کی روایت کے مطابق حضرت عثمان بن عفان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وکیل بنے۔ نجاشی کی ملکاؤں نے حضرت ام حبیبہؓ کو خوشبو کے تحائف دیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…