پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

مسلمانوں کے بعد عیسائی بھی اسرائیل کے نشانے پر بیت المقدس کے گرجا گھروں بارے کیا اعلان کر دیا

datetime 3  فروری‬‮  2018 |

تل ابیب(این این آئی)قابض اسرائیلی حکومت کی جانب سے بیت المقدس کے مسلمان باشندوں کے خلاف انتقامی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ وہاں کی مسیحی برادری کے خلاف بھی انتقامی اقدامات کا سلسلہ تیز کردیا ہے،اسرائیلی حکومت نے بیت المقدس میں موجود گرجا گھروں پر ٹیکس عاید کردیا ہے،عرب ٹی وی کے مطابق بیت المقدس میں اسرائیلی بلدیہ کے ترجمان نے ایک بیان میں بتایا کہ

ماضی میں القدس کے گرجا گھروں، ویٹیکن اور اقوام متحدہ کے زیرانتظام مذہبی مقامات ٹیکسوں سے مستثنیٰ تھے، مگر ان پر ٹیس لاگو کیے جا رہے ہیں۔القدس بلدیہ کے اسرائیلی ڈائریکٹر جنرل امنون میرھاف نے اسرائیلی حکام کو ایک مکتوب ارسال کیا جس میں ان کا کہناتھا کہ عالمی معاہدے عبادت گاہوں پر ٹیکسوں کو معاف نہیں کراسکتے۔ ہم کئی سال سے گرجا گھروں کو ٹیکسوں سے مستثیٰ رکھے ہوئے تھے۔ اب ان گرجا گھروں کی املاک پر بھاری ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔میرھاف کا کہنا تھا کہ گرجا گھروں کی 889 املاک کے قرض 19 کروڑ ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔میرہاف نے یہ مکتوب وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو، وزیر داخلہ اریہ درعی، وزیرخزانہ موشے کحلون اور حکومت کے مشیر قانون افیحائی مندلبوم کو بھی ارسال کیا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ القدس میں موجود عیسائی عبادت گاہوں پر ٹیکسوں کی دی گئی چھوٹ سے اقوام متحدہ کی ذیلی ایجنسیاں مستفید ہو رہی ہیں۔ ان املاک کا سالانہ ٹیکس 27 ملین ڈالر بنتا ہے۔مکتوب میں ایک قانونی رائے دی گئی ہے اور کہا ہے کہ ایسے مقامات جنہیں صرف عبادت کے لیے مخصوص کیا گیا ہو، جن میں نماز یا دعا کا اہتمام ہو، یا مذہبی تعلیم دی جائے یا دینی ضروریات کے لییاستعمال کیا جائے انہیں ٹیکس سے مستثیٰ قرار دیا جائے۔خیال رہے کہ سنہ1993ء میں ویٹیکن کی جانب سے اسرائیل کوتسلیم کرنے کے بعد القدس میں موجود

مذہبی مراکز کے حوالے سے تل ابیب سے مذاکرات کرتا رہا ہے۔بیت المقدس کے آرتھوڈکس چرچ پر گرجا گھروں کی املاک کی غیرقانونی خریدو فروخت کا الزام بھی عاید کیا جاتا رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…