منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے حتمی امیدوار نہیں ،نگران وزیراعظم کے لئے اچھے نام ہیں،تقرر کب ہوگا؟ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اہم ترین اعلان کردیا

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم اپوزیشن لیڈر کی مشاورت سے نامزد کیا جائے گا،جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھائے گا، پی ایف یو جے دستورکے مطالبات جائز ہیں ، صحافیو ں کے ویج ایوارڈ،تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ، صحافیوں کے تحفظ اور بہبود سمیت تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے ،وزارت اطلاعات صحافیوں کے مسائل سے متعلق میڈیا مالکان سے رابطے میں ہے ،سیاست کے فیصلے عدالت میں نہیں عوام میں ہونے چاہئیں ۔

وزیراعظم نے یہ بات منگل کو وزیر اعظم سیکریٹریٹ میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے وفد سے ملاقات کے دوران کہی۔ وفد کی قیادت صدر پی یوف یو جے کے صدرحاجی نواز رضااورسیکریٹری جنرل سہیل افضل کر رہے تھے، وفد میں سینئر صحافی سعود ساحر، فرخ خواجہ ، محسن رضا، تاثیر مصطفی،مغیث اشرف بیگ، میاں منیر،پی ایف یو جے کے نائب صدورشکیل حر، ، اسسٹنٹ جنرل سیکریٹری شعیب احمد، حامدریاض ڈوگر، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری حامد الرحمن سمیت لاہور،اسلام آباد،راولپنڈی، ملتان ، فیصل آباد، سرگودھا، رحیم یار خان کی صحافتی تنظیموں کے نمائندے شریک تھے۔ پی ایف یو جے دستور کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کی مدت مکمل ہونے سے ایک ماہ قبل نگراں وزیر اعظم کے لیے اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کا عمل شروع کیا جائے گا،ابھی تک اپوزیشن لیڈر سے اس سلسلے میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے تاہم میرے ذہن میں کچھ اچھے نام موجود ہیں،ان کا کہنا تھاکہ احتساب صرف سیاست دانوں کاہی ہوتا ہے کسی اورادارے یا فرد کا نہیں ہوتا،ایک سوال کے جوا ب پر وزیر اعظم نے کہا کہ عدلیہ اورفوج کے ساتھ بیک ڈور کوئی رابطہ نہیں ہے تاہم دونوں ادارے ریاست ہی کے ہیں سب کومل جل کر کام کر رہے ہیں ،نواز شریف کوماضی میں بھی سزا ہوئی تھی لیکن وہ دوبارہ

وزیر اعظم بنے،سیاست کے فیصلے عدالت میں نہیں عوام میں ہونے چاہئیں ، فیصلے ایسے ہونے چاہئیں تاریخ جن کو یاد رکھے اب ایسے فیصلے ہو رہے ہیں جنہیں شاید ہی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا، شہباز شریف وزارت عظمیٰ کے حتمی امیدوار نہیں ہیں الیکشن کے بعدپارٹی کی مجلس عاملہ اس کا فیصلہ کرے گی،انہوں نے کہا کہ جلد کراچی کا پریس کلب کا دورہ کروں گا، پی ایف یو جے دستورکے سیکریٹری جنرل سہیل افضل خان نے آٹھویں ویج ایوارڈ پر عملد رآمداور نویں ویج بورڈ ایوارڈکے قیام کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے صحافیوں کی جبری برطرفیوں ، تنخواہوں کی عدم ادائیگی ، فیلڈ اسٹاف کی سیکورٹی اور سیفٹی کے لیے وفاقی حکومت میڈیا اداروں کے بارے میں قانون سازی کرے ۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ صحافیو ں کے ویج ایوارڈ،تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ، صحافیوں کے تحفظ اور بہبود سمیت تمام مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں گے ،وزارت اطلاعات صحافیوں کے مسائل سے متعلق میڈیا مالکان سے رابطے میں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…