منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

خزانہ خالی، پاکستان کے اہم ترین ادارے نے خسارے کا نیا ریکارڈ قائم کردیا،ملازمین کو رواں ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی بھی مشکل میں پڑ گئی

datetime 30  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی) قومی ایئر لائن نے گزشتہ سال کیا کمایا کیا گنوایا منظر عام پر آگیا ایئر لائن نے جتنے پیسے کمائے اس کے آدھے کے نقصان میں رہے خسارے کے سبب تنخواہوں کی ادائیگی بھی خطرے میں پڑگئی ہے۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے نے سال 2017 میں اٹھاسی ارب روپے کا ریونیو حاصل کیا تاہم ایئر لائن کو چھیالیس ارب روپے نقصان کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی ناقص تجارتی پالیسی اوراضافی اخراجات کی وجہ سے ادارے کو ایک سال میں کل آمدن کے نصف سے

زائد کا نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔ پی آئی اے نے پہلی سہہ ماہی میں 21 ارب روپے کمائے اور 11 ارب روپے کا نقصان کیا۔دوسری سہ ماہی میں ادارے نے22ارب روپے کا روینیو حاصل کیا11.5ارب روپے کا نقصان اٹھایا۔ تیسری سہ ماہی میں پی آئی اے کا ریوینیو 24ارب روپے رہا اور نقصان کا تخمینہ 8ارب روپے لگایا گیا ہے۔چوتھی سہ ماہی میں اکیس ارب روپے کا روینیو حاصل کیا اور پندرہ ارب روپے سے زائد کا نقصان کیا۔ مجموعی طور پر ادارے نے 88 ارب روپے حاصل کیے اور 46 ارب سے زائد کا نقصان اٹھایا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کو گزشتہ سال سب سے زیادہ خسارہ نیویارک اسٹیشن بند کرنے کے سبب ہوا۔ ادارے کا مجموعی خسارہ تین سو ارب روپے سے بھی تجاوز کرچکا ہے۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے پی آئی اے ملازمین کو رواں ماہ کی تنخواہ کی ادائیگی بھی مشکل میں پڑ گئی ہے۔ یاد رہے کچھ دن قبل ہی پی آئی اے نے اپنے ملازمین کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔ قومی ایئر لائن اس مد میں ہر سال ساڑھے تین ارب روپے سے زائد خرچ کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…