جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

ایک ہفتے میں دوسری بڑی کارروائی، افغانستان میں لاشوں کے ڈھیر لگ گئے، کابل لرز اٹھا

datetime 27  جنوری‬‮  2018 |

کابل (آئی این پی)افغان دارالحکومت کابل میں خودکش ایمبولینس بم دھماکے میں 40 افراد ہلاک اور 140 زخمی ہوگئے ،بیشترزخمیوں میں سے اکثر کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ،دوسری جانب طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ہفتہ کو افغان میڈیا کے مطابق دارالحکومت کابل میں واقع وزارت داخلہ کے پرانے دفتر کے قریب خودکش

حملہ آور نے 2چیک پوسٹوں کے درمیان دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی کو وزارت کے دفتر کے مین گیٹ پر دھماکے سے اڑادیا۔حکام کا کہنا ہے کہ دھماکہ خیز مواد ایک ایمبولینس میں چھپایا گیا تھا جسے پولیس چیک پوسٹ پر دھماکے سے اڑایا گیا۔دھماکے کے بعد بڑی تعداد میں ایمبولینس گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی سرگرمیاں شروع کردی گئیںجبکہ سیکورٹی اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے اور علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ آسمان پر دھویں کے گھیرے بادل چھا گئے ۔افغان وزارت صحت کے ترجمان وحید ماجروح نے فرانسیسی خبررساں ادارے ’’ اے ایف پی ‘‘ کوبتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 40 ہے جبکہ 140افراد زخمی ہوئے ہیں۔وزارت داخلہ کے نائب ترجمان نصر ت رحیمی کا کہنا ہے کہ خودکش حملہ آور نے دھماکے کیلئے ایک ایمبولینس گاڑی استعمال کی ۔حملہ آور نے پہلی چیک پوائنٹ پر بتایا کہ وہ ایک مریض کو جموریارت ہسپتال لے کر جارہا ہے جس کے بعد دوسری چیک پوائنٹ پر اسے شناخت کرلیا گیا اور اس نے دھماکہ کردیا۔جس جگہ دھماکہ کیا گیا ہے اس علاقے میں اعلی امن کونسل کے دفاتر اور کابل پولیس ہیڈکوارٹر بھی موجود ہے ۔اعلی امن کونسل کے ایک عہدیدار نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ دھماکہ اتنا زور دار تھاکہ ہمارے دفتر کے کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے

تاحال ہمارے پاس ہمارے کسی بھی رکن کے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔افغان وزارت صحت کے مطابق بیشتر زخمیوں کی حالت تشویشناک ہونے کے باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیاجارہا ہے ۔دوسری جانب افغان طالبان نے دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حملے میں یورپی یونین کے وفد اور وزارت داخلہ کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے کابل میں انٹرکانٹینٹل ہوٹل پر دہشتگرد حملے میں غیر ملکیوں سمیت 40سے زائد افراد ہلا ک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے ۔ادھر صوبہ ہلمند کے ضلع ناد علی میں چیک پوائنٹ پر خودکش کار بم حملے میں 6سیکورٹی اہلکار زخمی ہوگئے ۔صوبائی گورنر کے ترجمان سرحدی زاک نے تصدیق کی ہے کہ واقعہ صبح گیارہ بجے کے قریب پیش آیا جس میں افغان نیشنل آرمی

کے 4اہلکار اور 2پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھاکہ حملہ آوردھماکہ خیز مواد کو چیک پوائنٹ کے قریب اڑنا چاہتا تھا تاہم سیکورٹی اہلکاروں نے اسے ہدف تک پہنچنے سے پہلے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا۔طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔گروپ کے ترجمان قاری یوسف احمدی نے دعویٰ کیا کہ دھماکہ ٹینک میں رکھے دھماکہ خیزمواد کے ذریعے کیا گیا

جس میں سیکورٹی اہلکار ہلاک بھی ہوئے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…