منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

رائو انوار کے جعلی مقابلے میں مارا گیانقیب اللہ محسود دراصل کون ہے؟تحقیقاتی رپورٹ میں سنسنی خیز انکشاف

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کروا دی ، پولیس مقابلہ جعلی، نقیب کو جعلی مقابلے میں مارنے سے قبل نجی عقوبت خانے میں رکھا گیا جہاں 47دیگر ملزم بھی موجود تھے، پولیس نے شاہ لطیف ٹائون میں لے جا کر یکطرفہ فائرنگ کر کے ہلاک کیا،رپورٹ میں انکشافات، کالعدم جماعت الاحرار

کے سابق ترجمان قاری احسان کی بھی گواہی شامل ۔ تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ محسود کی مبینہ پولیس مقابلے میں ہلاکت پر بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کروا دی ہے۔ رپورٹ 15صفحات پر مشتمل ہے جس میں سنسنی خیز انکشافات کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پولیس نے نقیب کو جعلی مقابلے میں ہلاک کیا۔ نقیب اللہ محسود وہ شخص نہیں تھا جو پولیس کو مطلوب تھارپورٹ میں چھوڑے گئے دو افراد کے علاوہ قاری احسان کا بیان بھی شامل کیا گیا ہے جس میں کہا گیا کہ مارے گئے نقیب اللہ محسود وہ نہیں ہے جو دہشتگردی میں ملوث ہے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مقابلے میں ہلاک کرنے سے پہلے نقیب کو نجی عقوبت خانے میں رکھا گیا جہاں پہلے سے 47دیگر ملزم موجود تھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس مقابلے کے مقام پر مارے گئے افراد کی جانب سے فائرنگ کرنے کے شواہد نہیں ملے، پولیس نے نقیب اور دیگر تین افراد کو یکطرفہ فائرنگ کر کے ہلاک کیا۔ تحقیقاتی ٹیم نے اپنی رپورٹ میں ایک نوٹ بھی لکھا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ نقیب اللہ محسود پر بنائی کمیٹی کے تفتیشی افسران کو جعلی پولیس مقابلے میں مارنے کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…