جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

دنیا بھر میں گزشتہ 12سالوں سے جمہوریت مسلسل تنزلی کا شکار ،پاکستان میں حیرت انگیز صورتحال،امریکی تھِنک ٹینک فریڈم ہاؤس کی رپورٹ

datetime 24  جنوری‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کے فروغ کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی تھِنک ٹینک فریڈم ہاؤس نے کہاہے کہ دنیا بھر میں جمہوریت مخالف رجحانات بڑے تشویشناک انداز میں بڑھ رہے ہیں جس کی وجہ سے مطلق العنان حکمرانی اور عدم استحکام معمول بنتے جا رہے ہیں۔ دنیا کے وہ ممالک جہاں لوگوں کو گذشتہ کئی دہائیوں سے سیاسی اور شخصی آزادی کی ضمانت حاصل تھی، اب ان ممالک میں بھی عوام کو دوسری جنگ کے عظیم کے بعد کے سب سے بڑے جمہوری بحران کا سامنا ہے

اور جوں جوں امریکہ اپنے روائتی قائدانہ کردار سے کنارہ کشی کر رہا ہے، دنیا ایک تاریک تر دور کی جانب بڑھ رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کے فروغ‘ کے لیے کام کرنے والے ایک امریکی تھِنک ٹینک فریڈم ہاؤس کے عالمی جمہوریت کے سالانہ جائزے میں بتایاگیا کہ دنیا میں جمہوریت کو ایک بحران کا سامنا ہے۔ جائزے کے مطابق 2017 وہ مسلسل 12واں سال تھا جب دنیا بھر میں جمہوریت تنزلی کا شکار رہی۔ اس عرصے میں ان ممالک کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی جہاں سیاسی حقوق اور شخصی آزادیوں پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ اگرچہ کچھ ممالک میں حالات بہتر ہوئے ہیں لیکن ان کی تعداد بہت کم ہے۔رپورٹ کے مطابق آج سے ربع صدی پہلے جب سرد جنگ ختم ہوئی تو ایسا لگتا تھا کہ اب آمریت اور مطلق العنان حکومتیں ماضی کا قصہ بن جائیں گی اور بیسویں صدی کی نظریات کی عظیم جنگ آخر کار جمہوریت نے جیت لی ہے، لیکن آج دنیا بھر میں جمہوریت پہلے کے مقابلے میں کمزور تر ہو چکی ہے۔ اس کے مقابلے میں وہ ممالک جہاں جمہوریت کو ماضی میں خطرے کا سامنا تھا، وہاں صورتحال بہتر ہوئی ہے۔ اس کی ایک مثال پاکستان ہے جس کی درجہ بندی میں بہتری آئی ہے لیکن پاکستان اب بھی ایسے ملکوں کی فہرست میں شامل ہے جو فریڈم ہاؤس کے مطابق جزوی طور پر آزاد ہیں۔فریڈم ہاؤس کے بقول دنیا بھر میں جمہوریت مخالف رجحانات کے

پھیلاؤ سے صرف بنیادی حقوق کو ہی خطرہ نہیں، بلکہ اس سے دنیا کی معیشت اور سکیورٹی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ اگر دنیا کے زیادہ سے زیادہ ممالک میں بنیادی حقوق اور سیاسی آزادی ہوتی ہے، تو اصل میں زیادہ سے زیادہ ممالک محفوظ اور خوشحال ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس اگر ان ممالک میں شخصی حکمرانی اور آمریت پروان چڑھتی ہے تو بین الاقوامی معاہدے توڑ پھوڑ کا شکار ہو جاتے ہیں اور دنیا زیادہ غیر محفوظ اور عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس قسم کی صورت حال میں دہشتگردی پنپتی ہے اور دہستگردوں کا دائرہ کار بڑھ جاتا ہے۔



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…