ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

نقیب اللہ قتل کیس :چیف جسٹس نے راؤ انوار کو کل طلب کرلیا

datetime 23  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ نقیب اللہ قتل کیس کے از خود نوٹس کی سماعت کل کرے گی۔سپریم کورٹ نے 13 جنوری کو کراچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں مشکوک پولیس مقابلے میں نقیب اللہ کی ہلاکت کا از خود نوٹس لیا تھا۔سپریم کورٹ کل سے نقیب اللہ قتل کے از خود نوٹس کیس کی سماعت کرے گی جس کے لیے آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ ، راؤ انوار، ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو کل ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے معطل ایس ایس پی راؤ انوار کا نام بھی ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) میں ڈالنے کا حکم دیا ہے۔سپریم کورٹ میں انتخابی اصلاحات کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ پتا لگا راؤ انوار کمیٹی میں تشریف نہیں لارہے، یہ انسانی حقوق کا معاملہ ہے، کل اس معاملے کی سماعت کریں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ کوئی ایک مقدمہ بتائیں جوآرٹیکل 184 تھری اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھ کر نہ لیا ہو؟ انسانی حقوق سے متعلق ہر کیس کی سماعت کریں گے۔واضح رہے کہ سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے دعویٰ کیا تھا کہ پولیس مقابلے میں ہلاک ہونے والا نقیب اللہ کالعدم تحریک طالبان کا دہشت گرد تھا جو مہران بیس حملے سمیت دہشت گردی کی دیگر کارروائیوں میں ملوث تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…