بدھ‬‮ ، 04 ‬‮نومبر‬‮ 2026 

نقیب اللہ کا قتل،راﺅ انوار کیا کررہے ہیں؟انتظار کو کس نے مارا؟زینب،اسماءاور ڈی آئی خان واقعے کے اصل مجرم کیوں گرفتار نہ ہوسکے؟کیا پولیس ناکام ہوگئی ہے یا ۔۔! جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 22  جنوری‬‮  2018 |

لندن میں ایک شخص تھا‘ سر رابرٹ پیل‘ یہ اٹھارہ سو اٹھائیس میں برطانیہ کا وزیر داخلہ تھا‘ لندن اس وقت جرائم کا گڑھ تھا‘ مافیاز نے شہر میں نو گو ایریاز بنا رکھے تھے‘ لوگ دن کے وقت بھی باہر نہیں نکل سکتے تھے‘ رابرٹ پیل نے میٹرو پولیٹن پولیس فورس بنانے کا فیصلہ کیا‘ اس نے نوجوان بھرتی کئے‘ فوج سے ٹریننگ کرائی‘ شہر میں فٹ بال میچ کرائے‘ لوگ میچ میں مگن ہوئے اور پولیس نو گو ایریاز میں داخل ہو گئی‘ رابرٹ پیل نے دو برسوں میں پورا شہر کرائم فری کر دیا‘

رابرٹ پیل کی اس پولیس فورس کا نام سکاٹ لینڈ یارڈ تھا‘ یہ فورس اس وقت بھی موجود ہے اور یہ دنیا کی بہترین پولیس فورس سمجھی جاتی ہے‘ سی آئی ڈی کا محکمہ اسی پولیس فورس نے بنایا تھا‘ انگریز نے اٹھارہ سو اکسٹھ میں سکاٹ لینڈ یارڈ کی طرز پر ہندوستان میں بھی پولیس ڈیپارٹمنٹ بنایا‘ انڈیا میں لندن کی طرح سادہ کپڑے والی سی آئی ڈی فورس بھی بنائی گئی‘ 1947ء میں برٹش پولیس پاکستانی پولیس اور بعد ازاں صوبوں کے ناموں پر بنگال‘ بلوچستان‘ سندھ‘ پنجاب اور سرحد پولیس بن گئی‘ سکاٹ لینڈ یارڈ ایک سو 88 برسوں میں دنیا کی سب سے بڑی اور کامیاب فورس بن گئی جبکہ پاکستانی پولیس گرتے گرتے دنیا کی نااہل اور بدترین پولیس بن گئی‘ پاکستانی پولیس کے بارے میں کہا جاتا ہے‘ یہ جینوئن آپریشن کے دوران فیض آباد کی طرح لیٹ جاتی ہے اور جعلی مقابلوں میں دس دس لوگ مار دیتی ہے‘ یہ ماڈل ٹاؤن میں معصوم شہریوں کو گولیوں سے بھون کر رکھ دیتی ہے‘ پچھلے ہفتے کراچی کے تین واقعات نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا‘ کراچی کے بدنام زمانہ پولیس آفیسر راؤ انور نے جنوبی وزیرستان کے ایک خوبصورت اور بے گناہ جوان نقیب اللہ کو جعلی پولیس مقابلے میں قتل کر دیا‘ راؤ انوار نے پولیس کی تحقیقاتی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے بھی انکار کر دیا‘ ایک نوجوان انتظار احمد کو پولیس نے 13 جنوری کو خیابان اتحاد پر گولیوں سے بھون دیا‘ یہ نوجوان مدیحہ کیانی نام کی ایک لڑکی کے ساتھ جا رہا تھا‘

قتل کا الزام مدیحہ کیانی کے ایس پی (مقدس) حیدر پر لگ رہا ہے اور 20 جنوری کو پولیس نے شارع فیصل پر ایک نوجوان مقصود کو بھی قتل کر دیا‘ یہ پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا‘ ایک طرف یہ صورتحال ہے اور دوسری طرف 13دن بعد بھی پولیس زینب سمیت 6 بچیوں کے قاتل تک نہیں پہنچ سکی‘ 500 سے زائد لوگوں کا ڈی این اے بھی ہو چکا ہے‘ مردان کی چار سالہ بچی اسماء بھی 8 دن گزرنے کے باوجود پولیس کی کامیابی کا راستہ دیکھ رہی ہے اور ڈی آئی خان میں نوجوان لڑکی کو سرعام برہنہ کرنے کا واقعہ پیش آیا‘ واقعے کا اصل ملزم سجاول آج تک گرفتار نہیں ہو سکا‘ یہ کیا ہو رہا ہے‘ کیا یہ ملک پولیس سٹیٹ ہے اور پولیس بھی ظالم اور نااہل ہے‘ ذمہ دار کون ہے اور خامیوں کو ٹھیک کس نے کرنا ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا اور وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال ہمارے مہمان ہوں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔



کالم



سٹوڈنٹ لسٹ


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

Mind The Gape

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مہاراجہ ہری سنگھ کے جواہرات

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

مرنے کے علاوہ

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

درگزر کیا کریں

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بارہ منٹ کا کھیل

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

زندگی کا ذائقہ

یونان کے کسی بادشاہ نے وزیر سے ناراض ہو کر اسے…

عمران خان بھٹو(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

عمران خان بھٹو(دوسرا حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

 عمران خان بھٹو

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)

  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…