بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

نماز عشا کا وقت ہو چکا تھا، صفیں باندھ لی گئیں، تکبیر ہو چکی تو اچانک امام کعبہ پیچھے مڑے اور ایک پاکستانی کواشارہ کر کے کہا کہ آج نماز تم پڑھائو۔۔جانتے ہیں وہ پاکستانی کون تھا؟

datetime 22  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آج کعبہ میں کچھ غیر معمولی واقعہ ہونے والے تھا، نماز عشا کا وقت ہو چکا تھا، نمازیوں نے صفیں درست کر لی تھیں، تکبیر شروع ہو کر جیسے ہی ختم ہوئی تو اچانک امام کعبہ جائے امامت سے پیچھے ہٹ گئے اور مڑ کر اگلی صف میں کھڑے ایک پاکستانی کی طرف اشارہ کیا کہ ’’آج تم نماز پڑھائو‘‘بازوسے پکڑا اور تقریباََ زبردستی ہی جائے امامت پر کھڑا کر دیا،

یہ وہ جگہ ہے جہاں پر صرف کھڑے ہونے کا خواب دنیا بھر کے مسلمان اپنی آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں، اچانک اتنا بڑا اعزاز اور یک لخت ، اس شخص کی حالت غیر ہو گئی ، قدم لڑکھڑانے لگے، آنسوئوں کی جھڑی تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی، ہچکیوں اور سسکیوں کے درمیان نماز تو مکمل ہو گئی مگر ہر رکعت میں رکوع اور سجدے کے درمیان یہی دھڑکا لگا رہا کہ کہیں روتے روتے زمین پر نہ جاگریں۔ یہ کوئی اور نہیں بلکہ پاکستان کی عظیم مسلح افواج کے سربراہ اور اس وقت کے صدر پاکستان جنرل محمد ضیا الحق جن کو اسرائیل کے یہودی فوجی صلاح الدین ایوبی ثانی کے لقب سے پکارتے تھے۔ یہ اعزاز صرف صدر جنرل ضیا الحق کے حصے میں ہی آیا کہ اچانک کعبہ میں نماز عشا میں مسلمانوں کی امامت آپ سے کروائی گئی۔ جنرل ضیا الحق کا یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ آپ ایک ہی دن میں متعدد مرتبہ روضہ رسول ﷺ کے اندر حاضری سے فیضیاب ہوئے۔ یہاں تک کہ گورنر مدینہ آپ کے پاس اپنی سفارش لے کر آگئے کہ جنرل صاحب! اب جب شرف بازیابی ہو تو خادم کو بھی ہمراہی کا شرف بخشئے گا، پھر چشم فلک نے دیکھا کہ گورنر مدینہ جنرل ضیا الحق کے توسط سے روضہ رسول میں حاضری سے فیضیاب ہوئے، جنرل ضیا الحق کی زندگی کے ایسے بے شمار حیران کن واقعات ہیں جن کو پڑھ کر لوگ حیران ہو جاتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…